لاہور:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ریاستی نظام کو ری سیٹ کرنے کا مطلب نظام کو توڑنا نہیں بلکہ اس کی خامیوں کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے درست کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے سے متعلق ان کی سابقہ گفتگو کا اشارہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی بندوبست کی طرف نہیں تھا۔
قومی پالیسی مکالمہ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے ایک ماہ اور پانچ روز قبل نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کی تھی، تاہم بعض لوگوں نے اسے حکومت جبکہ بعض نے سیاسی نظام سے جوڑ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اشارہ 79 سال سے جاری ملکی نظام کی طرف تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر موجودہ نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا تو اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لے کر اصلاحات کرنا ہوں گی۔ تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف بنیادی ضروریات ہیں جو ہر شہری کو میسر ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے معاملے کو عوام کی رائے پر چھوڑ دینا چاہیے۔ عوام چاہیں تو نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں، جبکہ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر تمام تجاویز کا جائزہ لینا چاہیے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے، بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ ملک میں کتنے انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس بننے سے کسی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اور پنجابی، سندھی یا پشتون شناخت برقرار رہے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ سازی تیز ہونی چاہیے اور حکومت عوام کے قریب ہونی چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ قومی اتفاق رائے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے اور انتظامی یونٹس سے متعلق عوام کی رائے کو اہمیت دینا ہوگی۔ جو بھی فیصلہ ہو، اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ملک میں تعلیم، صحت، غذائیت اور صاف پانی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر دس میں سے چار بچوں کو بنیادی اور مناسب غذا میسر نہیں، جبکہ صرف 55 فیصد پاکستانیوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کا پیسہ عوام کی ضروریات پر خرچ ہونا چاہیے۔ اگر موجودہ نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا تو اسے ری سیٹ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے نظام کی بہتری کی بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ کوئی ایک سیاسی جماعت یا اس کے نمائندے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کو نہیں روک سکتے، فیصلہ عوام کی مرضی اور قومی اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔