نئی دہلی: بھارت میں مون سون بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے کے مختلف واقعات میں 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
بھارتی حکام کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان شمال مشرقی ریاست آسام میں ہوا، جہاں مون سون سیزن کے آغاز سے اب تک 89 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ضلع شیواساگر میں 47 افراد جان سے گئے جبکہ متعدد دیہات اور قصبے اب بھی سیلابی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں شدید بارشوں کے باعث اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے۔ جنوبی ریاست کیرالا میں مسلسل بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث 15 افراد جان سے گئے جبکہ 7 افراد لاپتا ہیں۔
دوسری جانب ریاست بہار اور جھارکھنڈ میں گزشتہ دو روز کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کے مطابق متاثرین میں زیادہ تر کسان، مویشی چرانے والے افراد اور بچے شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث کئی دریا بپھر گئے ہیں، متعدد سڑکیں اور پل زیر آب آ چکے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی ایشیا میں مون سون بارشوں کی شدت اور غیر متوقع پن میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارتی حکام نے آئندہ دنوں میں مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے عوام کو احتیاط برتنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔