واشنگٹن : سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ دفاع (Department of Defense) کا نام تبدیل کر کے "محکمہ جنگ" (Department of War) رکھنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ ہم چیزوں کو ان کے اصل نام سے پکاریں۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا کی سب سے طاقتور فوج امریکہ کے پاس ہے، اور اسے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کسی ابہام کی ضرورت نہیں۔
روس یوکرین جنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس تنازع کو ختم کرانا آسان نہیں۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد سخت ٹیرف عائد کر دیا ہے۔
ادھر، یورپی یونین کے ساتھ بھی ٹرمپ انتظامیہ کی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین نے گوگل پر عائد 2.95 ارب یورو کا اینٹی ٹرسٹ جرمانہ واپس نہ لیا، تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ ان کے بقول، "امریکی عوام گوگل پر یہ جرمانہ برداشت نہیں کریں گے۔"
ٹرمپ کی ان حالیہ پالیسیوں پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے، مگر وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ "امریکہ کو پہلے" رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔