اب نواز شریف کیا کریں گے؟

 اب نواز شریف کیا کریں گے؟

قومی منظر نامے پر گرما گرم خبروں نے چونکا دیا ہے۔ کورونا کی نئی قسم ڈیلٹا کی تباہ کن تفصیلات نے سنسنی پھیلا دی ہے عاصم سلیم باجوہ کی سی پیک کے عہدے سے علیحدگی بھی اپنے دامن میں بہت سی کہانیاں سموئے ہوئے ہے۔وہاں نواز شریف کے ویزا کی چھ ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد میڈیکل گرائونڈ پر اس میں توسیع سے انکار بھی بڑی خبر ہے۔ مکمل خبر تو یہ ہے کہ فیصلے میں یہ بھی کہا ہے نواز شریف ہوم ڈیپارٹمنٹ کے فیصلے کے خلاف برطانوی امیگریشن ٹربیونل میں اپیل کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے پر حکومت کے ترجمان قطار اندر قطار ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوتے رہے۔ایک بعدایک وہی کہانی بیا ن کی وہ ایک چور مفرور ،سزا یافتہ ہے۔ شہراد اکبر صاحب نے حکومت کا موقف بیان کیا۔ کہا’’ نواز شریف وہاں سیاسی پناہ لے لیں‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کچھ مفت مشورے بھی دیے "نواز شریف پاکستان واپس آجائیں، اس کے علاوہ ان کے تمام آپشن غیر قانونی ہیںانہوں نے اپنی صحت کے بہانے برطانیہ میں ویزا توسیع کی جو درخواست دی تھی وہ مسترد ہوچکی ہے ،ان کو پاکستان آجانا چاہئے اور ہم پہلے ہی ان کو لکھ چکے ہیں کہ ان کا پاسپورٹ ایکسپائر ہوچکا ہے آپ پاکستان کو مطلوب مجرم ہیں " نواز شریف کو پاکستان لانے کے لیے حکومت پاکستان پونے دو سال سے زور لگا رہی ہی،مگر یہ تمام کوششیں لاحاصل ہیں ان کی بات نہیں بنی۔ وزیر داخلہ شیخ رشید اور شہزاد اکبر نواز شریف کو پاکستان لانے میں اپنی ناکامی کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔ حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ وہ نواز شریف کو لانے کے لیے جب برطانوی انصاف کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کریں گے۔ وہاں ان کو بھی کچھ سوالوں کے جواب دینا پڑیں گے۔ان سے یہ پوچھا جائیگا کہ نواز شریف کی سزائوں کا ریکارڈ پیش کرو،پھر ان کو نواز شریف کے بیانیے " ووٹ کوعزت دو"کا حساب بھی دینا ہوگا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں کمزور ہوتی جمہوریت ، نظام عد ل پر بڑھتا حکومتی دبائو،نظام احتساب اور کرپشن پر بہت سے سوال اٹھائے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی 2020 کی کرپشن کے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان 124ویں نمبر پر ہے اور چوں کہ یہاں سزائوں پر عمل درآمد اور احتساب کا فقدان ہے لہٰذا کرپشن کے مسائل بدستور موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ضابطہ قانون کے تحت رشوت ایک جرم ہے جس کی سزا مقرر ہے لیکن اس کے باوجود حکومت میں ہر سطح پر رشوت کا چلن موجود ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کو اچھی ساکھ کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔ کچھ سوال حکومت کی طرف سے برطانیہ کو لکھے گئے خطوط کے جواب میں پوچھے گئے ہیں۔ اصل مسئلہ نواز شریف کو سیاست سے بے اثر کرنا اور مسلم لیگ ن کو ماضی کا قصہ بنانے کا ہے۔ مگر یہ مشکل کام حکومت سے تین سال میں ہو نہیں سکا۔ الٹا نواز شریف کی بیٹی مریم نواز عوامی رہنما بن کر ابھری ہے۔یہ حکومت کی الگ پریشانی ہے۔
حکومت چاہتی ہے کہ مسلم لیگ ن سے نواز شریف مائنس ہو جائیں تبھی شہباز کا بیانیہ چمک سکے گا ۔ مگر نواز شریف نے لندن بیٹھ کر گزشتہ سال سوشل میڈیا پر اپنا اکائونٹ بنایا جس کا انہوں نے بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے ان کو سزا سنانے والے مرحوم جج ارشد ملک کا مقدمہ بھی پیش کیا۔ برطانیہ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے بعد نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کا ذکر بھی نواز شریف کی اپیلوں میں ضرور چھڑے گا۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر)مرزا اسلم بیگ کی کتاب کا حوالہ بھی آئے گا جس میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کو سازش کے ذریعے نکالا گیا ہے۔ یہ وہ سازش تو نہیں جس کا مبینہ طور پرذکر سب سے پہلے جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف اور قومی اسمبلی کی نشست چھوڑتے وقت کیا تھا کہ اس بار نواز شریف کو عدلیہ کے ذریعے نکالا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت دو ٹوک بتا چکی ہے کہ نواز شریف کسی صورت میں ’’سیاسی پناہ‘‘ نہیں لے گا۔ ہمارے سامنے امیگریشن قوانین کے برطانوی وکلا کی جورائے آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کب کیا ہو گا؟۔ اور یہ معاملہ اعلیٰ عدالتوں تک جائے گا۔ اس میں ان تمام قانونی تقا ضوں کی مہلت کوئی ایک سال سے اوپر بنتی ہے۔ پاکستان آنے کے لیے نواز شریف کو اتنا ہی وقت درکار ہے۔ جناب عمران خان کی حکومت کا پرائم ٹائم گزر چکا ہے۔ اب تو جو بھی فیصلے وہ کریں گے وہ آنے والے تناظر میں ہوں گے ۔ نواز شریف کو فوری ڈیپورٹ کرنا مشکل نظر آتا ہے جیسا حکومت دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ جلد پاکستان میں ہوں گے۔فوری ایسا نہیں ہونے جارہا۔ نواز شریف کو اب اتنی ہی مہلت لندن رہنے کے لیے چاہیے ہے جو ان کی اپیلوں کا فیصلہ ہونے میں لگے گی۔ پہلے مرحلے میں برطانوی امیگریشن ٹربیونل میں نواز شریف کی لیگل ٹیم اپنی اپیل کا کام شروع کر چکی ہے۔ویسے بھی اس ماحول میں نواز شریف کو حکومت پاکستان لا کر کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں کر سکے گی بلکہ اس کا فائدہ ن لیگ کو ہو گا۔ وہ براہ راست پارٹی امور جیل سے چلائیں گے جیسا پہلے ہوتا تھا۔ پاکستان کی عدالت میں وہ اپیلیں پھر زندہ ہو جائیں گی جن میں نواز شریف کو عدالتیں مفرور قرار دے چکی ہیں۔ نواز شریف کی اپیلوں میں ریلیف ملنے کے بڑے امکانات ہیں۔ نواز شریف کو سزائیں دینے والی عدالت کے جج ارشد ملک اب اللہ کے حضور پیش ہو چکے ہیں۔ جج کا جب ایک ویڈیو سکینڈل سامنے آیا تو سپریم کو رٹ کے چیف جسٹس کھوسہ نے یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ریفر کر دیا۔ مشرف کے انقلاب کے ابتدائی دور میں سیف الرحمان اور جسٹس قیوم کے درمیان آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی۔ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کو دی جانے والی سزا کے بارے آڈیو گفتگو میں یہ معاملہ سپریم کوٹ کے سامنے آیا جس پر عدالت عظمیٰ نے کوٹیکنا کیس میں دی جانے والی سزا کو ختم کر کے نئے سرے سے مقدمہ کی سماعت کی مگر نواز شریف کے معاملے میں اس نظیر کو فالو نہیں کیا گیا۔اس کیس کی سماعت کرنے والے ججوں کو اپنے عہدے خالی کرنا پڑے تھے۔ نواز شریف الیکشن سے پہلے ہر صورت میں پاکستان میں ہوں گے۔مریم نواز نے پاکستان میں رہ کر نواز شریف کے بیانیے کو زندہ رکھا بلکہ اپوزیشن کی جماعتوں کو بھی اپنے پیچھے لگایا۔ نواز شریف کے بیانیے سے سب سے خوف ز دہ آصف علی زرداری ہیں جن کو یہ بیانیہ سوٹ نہیں کرتا۔ پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا نقصان پنجاب میں ہو چکا ہے۔ اس کے بڑے بڑے ستون پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں چلے گئے ہیں۔ نو از شریف اب الیکشن پالیٹکس میں سیٹیں جیتنے کی بات نہیں کرتا بلکہ وہ اس سے آگے کی بات کرتا ہے۔ وہ تو اب آئین شکنوں کو پیچھے ہٹ جانے کو مشورہ دیتا ہے۔ حال ہی میں ایک بار پھر کشمیر الیکشن کے حوالے اور نارووال میں مسلم لیگ ن کی شکست سے بہت سے سوال اٹھے ہیں۔ اب دھاندلی کو روکنا بہت ضروری ہے اس کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ باری باری کی حکومتوں کو لانے کا فارمولا کو ن دیتا ہے۔1970کے انتخاب میں بھی من پسند جماعتوں پر اس وقت کی حکومت نے بڑی رقم خرچ کی تھی۔مہرے بڑی کامیابی نہ حاصل کرسکے تھے۔ بھٹو نے بھی اپنی پسند کی حکومت لانے کے لیے سندھ اور بلوچستان میں بڑی تعداد میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کو بڑی تعداد میں بلا مقابلہ منتخب کرالیا تھا۔ بلوچستان کے 40 کے ایوان میں 20 ممبر بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے۔ سندھ کی صوبائی اسمبلی میں 100 کے ایوان میں 40 تو بلا مقابلہ ہو گئے۔ تین صوبوں کے وزیر اعلیٰ بھی بلا مقابلہ چنے گئے۔اس وقت جن لوگوں نے دھاندلی کی تھی یا سرکاری ملازم اس کا حصہ بنے تھے وہ سارے وعدہ معاف گواہ بن گئے۔ آگے چل کر یہ دھاندلی بھٹو کے گلے کا پھندہ بن گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو اگر دھاندلی نہ بھی کرتے وہ اس زمانے میں بڑے پاپولر لیڈر تھے۔ بھٹو کے بعد ہم پلہ نواز شریف کا نام آتا ہے جو سیاست میں تین بار وزیر اعظم بنے اور تینوں بار نکالے گئے۔اب وہ اس نعرے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔"ووٹ کو عزت دو "