نیویارک/اسلام آباد: امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان نے ایک اہم "سہولت کار" کا کردار ادا کیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے (CNN) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس پیش رفت کو سفارت کاری اور مکالمے کی بڑی فتح قرار دیا ہے۔
سفیر پاکستان کے مطابق، یہ کامیابی راتوں رات حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے ہفتوں کی انتھک سفارتی کوششیں شامل تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر، قطر اور چین جیسے ممالک نے پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ کوششیں کیں۔ چین نے ابتدا ہی سے فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ خلیجی ریاستوں میں مقیم 55 لاکھ پاکستانیوں کے مفادات اور علاقائی امن کی خاطر ان ممالک کی قیادت کو مسلسل اعتماد میں لیا گیا۔
رضوان سعید شیخ نے انٹرویو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کسی دباؤ کے بغیر مخلصانہ طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہافیصلوں کا اصل اختیار متعلقہ فریقین (امریکہ اور ایران) کے پاس ہے، پاکستان صرف ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے جہاں باہمی اعتماد کے ساتھ بات چیت ہو سکے۔"
پاکستانی سفیر نے مزید بتایا کہ اس پورے عمل کی کامیابی کی بنیاد راز داری اور باہمی اعتماد پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف خلیج بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب کریں گے۔
یاد رہے کہ اسی سفارتی مشن کے سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد (بشمول سپیکر قالیباف اور وزیر خارجہ عراقچی) آج رات اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ ہفتے کی صبح سے شروع ہونے والے ان مذاکرات پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں، جہاں پاکستان ایک غیر جانبدار اور معتبر میزبان کے طور پر ابھرا ہے۔