Get Alerts

کیا " ابراہیم " واقعہ نظام کراچی بدل پاۓ گا ؟ 

کیا

تحریر: وجیہہ تمثیل مرزا

کراچی کھلے مین ہول میں گرنے والے ابراہیم کی کہانی پہلی نہیں ہے اس سے پہلے بھی بہت سے دردناک واقعات شہر کراچی کے معصوم مکینوں کی جانیں نگل چکے ہیں۔ ان سب واقعات کا زمہدار کون ہے ؟ حکمران، اور انتظامیہ کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوۓ وہاں کے رہائشوں نے اب اپنی مدد آپ کے تحت ہی کھلے مین ہولز کو ڈھکنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے بڑی باعث شرمندگی کی بات اور کیا ہو گی کہ عوام خود اپنی مدد اپ کے تحت اس طرح کے کام سرانجام دے رہی ہے۔

 تفصیلات کے مطابق، کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں گرنے والے تین سالہ ابراہیم کی لاش واقعے کے 15 گھنٹے بعد نکال لی گئی تھی۔ گزشتہ دنوں پہلے اتوار کی رات نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والا بچہ مردہ پایا گیا۔ یہ واقعہ اتوار کی رات 11 بجے کے قریب پیش آیا جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا تاہم بچے کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔


ابراہیم ولد نبیل اتوار کی رات 11 بجے کے قریب ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور کے باہر مین ہول میں پھسل گیا۔ اس نے اپنے والد کی انگلی چھوڑ دی تھی اور کھڑی موٹرسائیکلوں کی قطاروں کے درمیان سے آگے چل پڑا جب وہ اچانک کھلے گٹر میں غائب ہو گیا۔ گھر والے خریداری کر رہے تھے کہ لڑکا اپنا ہاتھ چھڑا کر آگے بھاگا۔ یہ خاندان شاہ فیصل کالونی میں رہائش پذیر ہے۔ ابراہیم ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔

 بچے کے دادا محمود الحسن نے میت وصول کی۔ ابراہیم کی والدہ مبینہ طور پر واقعے کے بعد بے ہوش ہوگئیں۔ مقامی لوگوں اور رضاکاروں نے مشینری اور سیوریج کے نقشوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہونے والی تاخیر پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بچاؤ کی کوششوں میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے والد اور دادا نے پوری رات تلاش کی اور یہاں تک کہ کسی بھی اتھارٹی نے مدد کے لیے قدم نہ اٹھانے پر ذاتی کھدائی کی کوششوں کے لیے 15,000 روپے ادا کر دیے۔


اس کے بعد ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ معطلی کے بعد، مقامی باشندوں نے اپنے طور پر بھاری مشینری کا بندوبست کیا اور تلاش میں مدد کے لیے مقام پر کھدائی کا کام جاری رکھا۔ کھلے مین ہول میں گرنے والے بچے کی شناخت تین سالہ ابراہیم ولد نبیل کے نام سے ہوئی ہے۔

جب یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا تو ابراہیم اپنے اہل خانہ کے ساتھ خریداری کے لیے ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور پر گیا تھا۔ 15 گھنٹے تک جاری رہنے والی وسیع تلاش کے بعد ریسکیو ٹیموں نے پیر کی سہ پہر ابراہیم کی لاش مین ہول سے نکال لی۔ یہ شہر کراچی میں پیش آنے والا پہلا دردناک واقعہ نہیں تھا لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ آخر کب تک انتظامیہ  غفلت کی نیند سوتی رہے گی ؟ کیا واقعہ نظام کراچی بدلنے میں مدد گار ثابت ہو پاۓ گا ؟

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

وجیہہ تمثیل مرزا  پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

ٹیگز: