Get Alerts

بھارت ، میانمار کی سرحد پر کشیدگی، تین ہفتوں میں تیسرے حملے کے باوجود بھارتی فوج کی خاموشی سوالات کی زد میں

بھارت ، میانمار کی سرحد پر کشیدگی، تین ہفتوں میں تیسرے حملے کے باوجود بھارتی فوج کی خاموشی سوالات کی زد میں

نئی دہلی : بھارت اور میانمار کے درمیان 1643 کلومیٹر طویل سرحد ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ محض تین ہفتوں میں یہاں تیسرے بڑے حملے کے باوجود بھارتی فوج کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

5 جون کو اروناچل پردیش کے لانگڈنگ ضلع میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں بھارتی سکیورٹی فورسز کا سامنا بھاری اسلحہ سے لیس شدت پسندوں سے ہوا۔ حملہ آور میانمار کی سرحد کے پار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

6 جون کو کیے گئے سرچ آپریشن میں دو شدت پسند مارے گئے، جن کا تعلق کالعدم تنظیم این ایس سی این (کے وائی اے) سے بتایا گیا ہے، جو بھارت پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے اور سیزفائر معاہدے میں شامل نہیں۔

مقامی میڈیا اور بھارتی فوج نے آسام رائفلز کو پہنچے نقصان کی کوئی تصدیق نہیں کی، جس پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت معلومات چھپا رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو محفوظ رکھ سکے۔

یہ کشیدگی نئی نہیں، جون 2015 میں منی پور میں بھی ایک حملے میں 18 فوجی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد بھارت نے میانمار میں عسکری کارروائی کی تھی۔ ستمبر 2024 میں بھارتی حکومت نے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے بڑے منصوبے کی منظوری دی، لیکن دشوار گزار علاقے، مقامی آبادی کی مزاحمت اور دشمن گروہوں کی سرگرمیوں نے اس منصوبے کو محدود کر دیا۔

این ایس سی این (کے وائی اے) کے علاوہ دیگر شدت پسند گروہ بھی میانمار کے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں اور بھارت پر حملے کر رہے ہیں۔ بھارتی فوج پر الزام ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جس سے علاقے میں نفرت اور بغاوت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگر بھارتی حکومت اس مسئلے کو شفافیت، مضبوط حکمت عملی اور مقامی لوگوں کی شمولیت کے بغیر حل کرنے کی کوشش کرتی رہی، تو یہ علاقہ کشمیر کی طرح کشیدگی کا شکار ہو سکتا ہے، جہاں ایک خفیہ اور ناکام جنگ بھارت کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔

ٹیگز: