تہران / واشنگٹن: ایک طرف جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ "کامیاب معاہدے" کے لیے پُرامید ہیں، وہیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ میں آکر اپنے قومی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے تازہ ترین خطاب میں امریکی صدر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے تہران کا دو ٹوک موقف پیش کر دیا ہے۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران خطے میں جنگ یا کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے، لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہاایران اپنے جائز حقوق سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ مذاکرات صرف برابری کی بنیاد پر ہو سکتے ہیں اور ایران کو اب تک پہنچنے والے ہر مالی اور جانی نقصان کا مکمل ازالہ کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی قیادت کو "معقول" قرار دیے جانے کے باوجود، تہران نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی نیا معاہدہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کی جائیں۔ ماضی میں کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی سے ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔ ایران کی علاقائی خودمختاری اور دفاعی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی "امیدوں" کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ اگرچہ پاکستان کی کوششوں سے عارضی جنگ بندی قائم ہے، لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کے اس اعلان نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا جو اس کے قومی وقار کے منافی ہو۔