غزہ: محصور فلسطینی علاقے غزہ پر اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں میں مزید 24 افراد شہید ہو گئے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی بتائی جا رہی ہے۔ قطری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، شہادتیں زیادہ تر وسطی اور جنوبی غزہ کے علاقوں میں ریکارڈ کی گئی ہیں، جہاں انسانی المیہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔
الاقصیٰ ہسپتال کے طبی ذرائع کے مطابق، وسطی غزہ کے دیر البلح علاقے میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 13 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ البریج پناہ گزین کیمپ پر حملے میں بھی چار افراد شہید ہوئے۔
ہسپتال "قبرستان" بننے کے دہانے پر
غزہ کے دو بڑے ہسپتالوں نے شدید ایندھن کی قلت پر خبردار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صورتحال انتہائی نازک ہے، 100 سے زائد نوزائیدہ بچے اور 350 سے زائد گردے کے مریض زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے کہا، "اگر ایندھن ختم ہو گیا تو آکسیجن اسٹیشنز بند ہو جائیں گے، بلڈ بینک ناکارہ ہو جائے گا، اور فریجز میں رکھا خون ضائع ہو جائے گا۔ پھر یہ ہسپتال شفا کی جگہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی قبرستان بن جائے گا۔"
اسرائیلی محاصرہ، انسانی بحران کی نئی حدیں چھو رہا ہے
غزہ پہلے ہی کئی مہینوں سے اسرائیلی محاصرے میں ہے، جہاں خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت ہے۔ ہسپتال عملہ ہر لمحہ موت و حیات کے درمیان جھولتے مریضوں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن محدود وسائل اور حملوں کی شدت نے حالات کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی بارہا متنبہ کیا جا چکا ہے کہ غزہ کا نظامِ صحت مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہے۔