تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس "کئی حیران کن اقدامات" موجود ہیں اور کشیدگی کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے کے جواب کے لیے تیار ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عراقچی نے کہا کہ آپریشن ایپک مسٹیک کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے تیل اور جوہری تنصیبات کے خلاف سازشیں کر رہا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ سود کی شرح میں ممکنہ اضافے اور مہنگائی کے خدشات کے باعث دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھنے میں آئی اور سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے امریکی ڈالر کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے اور فی بیرل قیمت تقریباً 120 ڈالر تک پہنچ گئی، جو ایک دن میں ہونے والے بڑے اضافوں میں شامل ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 13 فیصد بڑھ کر 104.5 ڈالر فی بیرل اور امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 12 فیصد اضافے کے ساتھ 101.8 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول سمیت دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔