سی ٹی او سے مکالمہ

 سی ٹی او سے مکالمہ

میرے لاہور کے نئے چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کے بہت سارے اقدامات پرتحفظات تھے ، سب سے بڑھ کے ون وے کی خلاف ورزی پر ایف آئی آر کا اندراج، مجھے لاہور کے ایک تگڑے وکیل نے بتایا کہ پاکستان پینل کوڈ میں ون وے کی خلاف ورزی کا کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ میری سوشل میڈیا پروفائل پر نشاندہی کی گئی کہ اگر آپ ایک نوجوان پر ون وے کی خلاف ورزی پر ایف آئی آردرج کروا دیتے ہیں تو عملی طور پر آپ اس کی اعلیٰ تعلیم، نوکری اور بیرون ملک جانے تک پر پابندی لگا رہے ہیں اور اگر وہ اس کی نشاندہی او ر وضاحت نہیںکرے گا تواس حقائق چھپانے کے مقدمے میں بھی سزا ہوسکتی ہے۔ دوسرا معاملہ یہ تھا کہ نئے سی ٹی او نے آنے کے بعد تین ہفتوں میں ہی موٹرسائیکل سواروں کے ایک لاکھ چالان کروا دئیے جنہوںنے ہیلمٹ نہیں پہن رکھے تھے۔ تیسرا کام یہ ہوا کہ انہوں نے رانگ پارکنگ پر گاڑیوں کو اٹھانے کی بجائے وہیں ان کی ٹائروں پر کلیمپ لگوانے شروع کردئیے ہیں اور ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق جو اس پردو ہزارروپوں کاچالان بھرے گا اس کی گاڑی پھر چلے گی اورمیرا سوال تھا کہ کیا حکومت نے شہریوں کو پارکنگ کی سہولتیں فراہم کردی ہیں کہ آپ رانگ پارکنگ پر ایسی سختی کریں۔ چوتھا یہ کہ انہوں نے سفارش کر دی ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم از کم جرمانہ دو ہزار اور گاڑیوں والوں کو پانچ ہزار روپے کیا جائے۔ میں سزاوں کو( جرائم کے خاتمے یا) مسائل کے حل کا ایک طریقہ سمجھتا ہوں مگر میرے خیال میں یہ واحداور حتمی طریقہ نہیںہے حالانکہ میں ’ ڈیٹرینس‘ پراکثر ایک مثال دیتا ہوں کہ ایک امریکی کسان نے کہاکہ اس کے ہمسائے بہت اچھے، ایمانداراور تعاون کرنے والے ہیں۔ سوال کرنے والے نے کسان سے پوچھا کہ اگر وہ ایسے ہیں تو تم دن بھر بندوق لے کر اپنے کھیت کے باہر کیوں بیٹھے رہتے ہو، کسان نے جواب دیا انہیں اچھا، ایماندار اور تعاون کرنے والا رکھنے کے لئے۔
ٍلاہور کے چیف ٹریفک آفیسر ایک ڈاکٹر بھی ہیں، گجرات سے تعلق ہے اور لاہور سے سکولنگ کے بعدعلامہ اقبال میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور اس کے بعد نوکری بھی یہیں کی لہذا وہ لاہور سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لاہورآبادی سوا کروڑ سے بڑھ چکی،اس کی چودہ سو کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں ہیں، لاہور میں رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں کی تعداد ستر لاکھ سے زیادہ ہوچکی اورابھی ا ن میں ان رجسٹرڈ موٹرسائیکل رکشے شامل ہی نہیں جبکہ لاہور کی ٹریفک پولیس کی کل تعداد تین ہزار کے لگ بھگ ہے جن میں آفس اور سیکورٹی کا سٹاف بھی شامل ہے یعنی ان سب کو مینیج کرنے کے لئے آپ کے پاس ایک شفٹ میں آٹھ سو زیادہ وارڈن نہیں ہیں لہذا آپ کو یہاں ٹریفک کے بہاو کو برقرار رکھنے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے میرے ایف آئی آر کے اعتراض پر بتایا کہ لاہور میں ایک سو اکتیس ایسے پوائنس کی نشاندہی ہوئی ہے جہاں پر ون وے کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے ایکسیڈنٹ اور جھگڑے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ پی پی سی کی دفعہ  279 اگرچہ ون وے کی خلاف ورزی پر نہیں ہے مگر وہ خطرناک ڈرائیونگ سے ضرور ہے لہذا بات صرف ون وے کی خلاف ورزی کی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو نوجوان ملک سے باہر جانا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے خلاف ون وے کی خلاف ورزی کا مقدمہ نہ ہو تو بتائے کہ وہ باہر جس بھی ملک جائے گا کیا وہاں ون وے کی خلاف ورزی کرسکے گا، کیا وہاں ریش ڈرائیونگ کر کے بچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بھی چالان پر پوائنٹ سسٹم ہونا چاہئے۔ دوسرے ان کا کہنا تھا کہ چالان ہونے کے بعد ہیلمٹ پہن لینا اچھا ہے یا اپنی زندگی گنوا دینا۔ پی ایم اے اور وائے ڈی اے نے کنفرم کیا ہے کہ ہیلمٹ کی سختی کے بعد ہسپتالوں میں روڈ ایکسیڈنٹ کے بعد ہیڈ انجری کے مریضوں کی تعداد میں بڑی کمی آئی ہے۔ ہمارے ہاں سب سے زیادہ ایکسیڈنٹ ہی موٹرسائیکل سواروں کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کوئی نیا قانون نہیں بنا رہی بلکہ پہلے سے موجود قوانین کو ہی استعمال میں لا رہی ہے۔
پارکنگ کی سہولت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ آپ اندرون شہر چلے جائیں یا مال روڈ سمیت کہیں بھی، پارکنگ ڈھونڈنا عذاب ہوجاتا ہے مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہم بچوں کو لینے کے لئے سکول گئے ہیں تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنی گاڑی اگر کلاس روم میں نہیں لے جاسکتے تو گیٹ کے عین اوپر ضرور پارک کریں اور یہی حال بازاروں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ عالمی کی بات سب سے زیادہ کی جاتی ہے او ر شاہ عالم کا ڈی پوائنٹ پارکنگ پلازہ ہر وقت ساٹھ ستر فیصد خالی پڑا رہتا ہے اور یہی حال ایم ایم عالم روڈ کی پارکنگ کا ہے۔ میں نے نشاندہی کی کہ حفیظ سنٹر کی اپنی پارکنگ ہی نہیں اور وہاں پارکنگ کے ڈیڑھ سو روپے لئے جاتے ہیں جبکہ سرکاری ریٹ صرف تیس روپے ہے۔ اسی طرح لاہور کے پلازے جیسے پیکیجز اور ایمپوریم وغیرہ پچاس سے سو روپے تک وصول کرتے ہیں یعنی حکومت کی کوئی رٹ ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک کے مسائل تین جگہوں سے ٹھیک ہوسکتے ہیں، ایک ٹریفک پولیس، دوسرے انفراسٹرکچر اور تیسرے خود عوام۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ عوام کے روئیے سب سے زیادہ اہم ہیں۔ ہم لوگ سگنل توڑنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے ثابت کرتے ہیں کہ ہم بہادراور بااثر ہیں جبکہ مہذب قوموں میں لائن اور لین کے ساتھ ساتھ سگنل کی پابندی انتہائی لازمی ہے۔ اصل معاملہ ہی یہی ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کو دکھائیں گے کہ دیکھو تمہارے باپ نے سگنل توڑا ہے اور اسے کسی نے نہیں پکڑا توبچے اس کو زندگی بھر کے لئے اپنا اصول بنا لیں گے۔ ہم سڑک پر زگ زیگ ڈرائیونگ کو فنکاری سمجھتے ہیں۔ ہمارے نوجوان ون وہیلنگ کرتے ہیں۔ہمارے رکشہ ڈرائیوروں کے پاس طویل عرصے تک لائسنس ہی نہیں تھے اور ہم عام زندگی میں بھی سمجھتے ہیں کہ لائسنس کی کیا ضرورت ہے حالانکہ یہ لائسنس کا نہ ہونا اتنا خطرناک ہے کہ خدانخواستہ آپ سے حادثہ ہوجائے اور کوئی بندہ مر جائے تواگر آپ کے لائسنس نہیں تو آپ پر قتل عمد کی دفعہ لگے گی اور اگر لائسنس ہے تو اسے قتل خطا قرار دے کر آپ ضمانت پر گھر آجائیں گے۔ میں ایک بھرپور مکالمے کے باوجود سمجھتا ہوں کہ سزائیں کسی بھی فرد یا معاشرے کی اصلاح کا واحد اورموثر راستہ نہیں ہیںمگر افسوس ہم لوگ تربیت پر بھی توجہ نہیں دیتے۔ قانون کی خلاف ورزی ہماری ٹور بناتی ہے حالانکہ ہمیں اس پر شرمندگی محسوس کرنی چاہئے۔ میں نے سڑکوں پر دیکھا ہے کہ لال بتی کی خلا ف ورزی کرنے والوں میں سب سے زیادہ موٹرسائیکل سوار ہوتے ہیں۔ میں نے خطرناک ڈرائیونگ کرنے والوں کو دیکھا ہے ان میں اسی سے نوے فیصد تک موٹرسائیکلوں کے بعد رکشے، ویگنیں، منی لوڈرز اور ٹرک وغیرہ چلانے والے ہوتے ہیں اور جب وہ کسی کو ٹھوک دیتے ہیں تو بھاگ نکلتے ہیں یا پکڑے جانے پرکہتے ہیں کہ ہم غریب آدمی ہیں، ہم کہاں سے جرمانہ بھریں، ہم پر ہی آپ کا زور چلتا ہے؟