Get Alerts

ترین کی پارٹی کے قیام اور چیئرمین پی سی بی کی تعیناتی پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے 

ترین کی پارٹی کے قیام اور چیئرمین پی سی بی کی تعیناتی پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے 
سورس: File

اسلام آباد: جہانگیر ترین کی نئی پارٹی کے قیام اور چیئرمین پی سی بی کے تعیناتی کے معاملے پر حکومتی اتحاد کی اہم جماعتوں میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ 

انگریزی اخبار ’’ دی نیوز‘‘ میں شائع سینئر صحافی صالح ظافر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت میں شامل دو بڑی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت بعض معاملات پر اپنے اختلافات ختم نہیں کرسکیں پیپلز پارٹی کے رہنما سابق صدر آصف علی زرداری اچانک علاج کے لیے دبئی روانہ ہو گئے۔ وہ تقریباً دو ہفتے وہاں قیام کریں گے۔

باخبر پارلیمانی ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے آج سے شروع ہونے والے ایوان میں بجٹ پر بحث کیلئے اپنے اراکین کی فہرست قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو نہیں دی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی بجٹ تجاویز کی عوامی حمایت نہیں کرے گی اور اگر اختلافات برقرار رہے تو پیپلز پارٹی کے اراکین بجٹ پر تنقید کے ساتھ سامنے آ سکتے ہیں۔

 وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز وفاقی حکومت پر تنقید کی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ قومی اسمبلی تک جا سکتی ہے۔ 

پیپلز پارٹی کی جانب سے سب سے بڑا اعتراض جہانگیر ترین کی نئی جماعت آئی پی پی کے قیام پر ہے جو اس وقت وجود میں آئی ہے جب آصف علی زرداری جنوبی پنجاب سے ایک کے بعد ایک ’الیکٹ ایبل‘ کو فتح کرنے میں مصروف ہیں۔ اس پیش رفت نے پیپلز پارٹی کو پریشان کر دیا ہے اور اس کی قیادت حکمران اتحاد سے ناراض ہے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کی تقرری دونوں جماعتوں کے درمیان ایک اور تنازع بن گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف جو کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ہیں اس کا چیئرمین نامزد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے نجم سیٹھی کو تعینات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ 

ذکا اشرف جو کہ پی پی پی کی سابق حکومت میں پی سی بی کے سربراہ تھے نے ایک بار پھر یہ عہدہ دوبارہ حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ احسان مزاری کو ان کا نام تجویز کیا ہے۔

ٹیگز: