تہران:ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے باضابطہ اور سخت ترین خطاب میں عالمی برادری اور دشمن قوتوں کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جغرافیائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دشمن پر دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بند رہنا چاہیے۔
سپریم لیڈر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران اپنے شہدا، خصوصاً علی خامنہ ای کی شہادت اور میناب سکول کے معصوم بچوں کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے ہمسایہ ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا "وقت کی مجبوری" قرار دیتے ہوئے کہااگر خطے میں امریکی اڈے بند نہ ہوئے تو ہمارے حملے مسلسل جاری رہیں گے۔ ہمارا ہدف صرف اور صرف وہ فوجی تنصیبات ہیں جو ایرانی عوام کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام کی عظمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کی حمایت کے بغیر ان کے عہدے کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ دشمن کی جانب سے ملک کو تقسیم کرنے اور خانہ جنگی کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوامی خدمت کے لیے قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے قوم کی درست سمت میں رہنمائی کی دعا کی۔
خطاب کے دوران انہوں نے ایک خطرناک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ مسلط کی گئی یا جاری رہی تو وہ ایسے تمام خفیہ محاذوں کو فعال کر دیں گے جن کا دشمن کو ماضی میں کوئی تجربہ نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے پر یقین رکھتا ہے، لیکن ان کی سرزمین پر موجود غیر ملکی فوجی موجودگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔