تہران:اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر فضائی حملہ کیا ہے، جسے "آپریشن رائزنگ لائن" کا نام دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی میں ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حملے کے دوران دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ متعدد غیر ملکی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی میں ایران کی اعلیٰ عسکری اور سائنسی قیادت نشانہ بنی ہے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی، ایرانی چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری، اور جوہری سائنسدان ڈاکٹر فرید عباسی اور ڈاکٹر محمد مہدی شہید ہو گئے ہیں۔ تاہم ایرانی حکومت یا سرکاری میڈیا کی جانب سے تاحال اس کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آپریشن ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے، جو اسرائیل اور عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران نے جوہری سرگرمیوں میں تیزی لائی ہے، اور اگر اسے نہ روکا گیا تو وہ ایک سال سے بھی کم وقت میں ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق فضائی کارروائی میں ایران کے بیلسٹک میزائل سسٹمز، یورینیم افزودگی کے مراکز اور دیگر حساس عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں، جب کہ کئی شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔اسرائیل میں بھی جوابی حملے کے خدشے کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اور شہریوں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ یروشلم میں سائرن بجائے گئے اور موبائل فونز پر انتباہی پیغامات ارسال کیے گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کے لیے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔بین الاقوامی سطح پر اس کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اور عالمی برادری کی جانب سے جلد تحمل اور امن کی اپیل متوقع ہے۔