واشنگٹن: ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں کے موقع پر وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں اہم ملاقاتیں کیں، جن میں سعودی عرب کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مالیاتی سہولیات پر پیش رفت پر اتفاق کیا گیا۔وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے سعودی فنڈ برائے ترقی (SFD) کے سی ای او سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے ملاقات کی۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاک سعودی تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں اور انہوں نے سعودی عرب کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا۔ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور اس کے عالمی توانائی و معیشت پر اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے خطے میں استحکام اور تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔وزیرِ خزانہ نے ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) کے منیجنگ ڈائریکٹر تسوتومو یاماموتو سے بھی ملاقات کی۔
وزیرِ خزانہ نے ایم آئی جی اے کی جانب سے 500 ملین امریکی ڈالر کی مجوزہ قلیل مدتی تجارتی مالیاتی سہولت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اسے خوراک، کھاد، توانائی اور ضروری مشینری کی درآمد کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ ملاقات میں جاری ثالثی مقدمات اور ان کے مالیاتی اثرات پر بھی بات ہوئی۔ وزیرِ خزانہ نے امید ظاہر کی کہ ایم آئی جی اے کی غیر جانبدار سہولت کاری سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
محمد اورنگزیب نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان پائیدار سرمایہ کاری اور سازگار کاروباری ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بیرونی مالیاتی ضروریات کو بروقت پورا کرنے کے لیے ان سہولیات پر پیش رفت تیز کرنے پر زور دیا۔