نیوی دہلی / واشنگٹن: مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر عالمی دباؤ کی زد میں آ گئی ہے، جب امریکہ نے بھارت کو مزید معاشی پابندیوں اور ٹیرف عائد کرنے کی تنبیہ کی ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہوئے، تو بھارت پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے انکشاف کیا کہ بھارت پر پہلے ہی 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیے جا چکے ہیں، اور روس سے تیل خریدنے کی پالیسی کی وجہ سے مزید 25 فیصد ٹیرف جلد لاگو کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر بھارت پر 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکے ہیں، جو مزید بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اس بیان کے بعد بھارتی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے، اور مودی حکومت کی معاشی اور سفارتی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان یہ اہم ملاقات الاسکا میں متوقع ہے، جو 2021 کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی براہِ راست ملاقات ہو گی۔ اس اجلاس میں یوکرین جنگ اور روس پر عائد پابندیوں پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بھی اس ملاقات میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں، بشرطیکہ دونوں فریق اس پر آمادہ ہوں۔
روس سے سستا تیل خریدنے والا بھارت، ایک جانب امریکہ کا اسٹریٹجک اتحادی بننے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف روس کے ساتھ معاشی تعلقات بھی نبھا رہا ہے۔ تاہم اگر امریکی روسی مذاکرات ناکام ہوتے ہیں، تو بھارت ان پالیسیوں کی بھاری قیمت چکا سکتا ہے۔