خدائے زندہ، زندوں کا خدا ہے

خدائے زندہ، زندوں کا خدا ہے

ہماری ایمانی تربیت کا رواں نظام، معمولات زندگی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ تیس شب وروز رمضان، ماہ قرآن میں ہر سال نصابِ زندگی یعنی قرآن وسنت کے ہمراہ گزارے جاتے ہیں۔ اللہ ایک جامع پلان ضبط نفس اور قرب الٰہی کا عطا کرتا ہے۔ شوال کے 6 روزے مزید آب وتاب بڑھاتے ہیں۔ ذوالقعدہ سے حاجیوں کے سلسلے، خاندانوں میں ایمانی ہلچل لاتے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ پیچھے رہ جانے والوں کی دل کی ایک تار ان سے بندھی حج کی منازل قلبی طور پر محسوس کرتی ہے۔ تکبیرات، عرفہ کے روزے کا اہتمام، قربانی کی چہل پہل پوری امت کو ایک داستانِ عظیم کا حصہ بناتی ہے۔ ہر سال ابراہیمِ حنیف کی لازوال کہانی پر سے عملاً امت گزر کر دکھاتی ہے۔ بندے کو اس سرزمین پر لے جا کھڑا کرتی ہے جس کے چپے چپے پر اس خانوادے کی داستان ثبت ہے۔ اور پھر انہی کے نقش قدم پر جابجا آتشِ نمرود میں بے خطر کود پڑنے والے خاتم المرسلین اور صحابہ کرامؓ … تن پہ انگارے بجھانے والے خباب رضی اللہ عنہ، تپتی ریتوں پرگھسٹتے بلال حبشی رضی اللہ عنہ، اسود عنسی کی جھوٹی نبوت کے مقابل آگ میں ڈالے جانے اور سلامتی سے نکل آنے والے ابومسلم خولانی۔ جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کے مقابل تن کر کھڑے ہو جانے والے سیدہ امِ عمارہ رضی اللہ عنہا کے جری بیٹے حبیب بن زید انصاریؓ۔ جسم کا ایک ایک عضو کاٹا جاتا رہا اور ان سے جھوٹی نبوت پر گواہی طلب کی جاتی رہی۔ مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی گواہی پر مصر حبیبؓ نے رہتی دنیا تک کے لیے ختم نبوت کی مہر اپنے ہر عضو کی شہادت سے ثبت کردی۔ کوئی لایا دلیل محبت مگر، خون کی ایک اک بوند کو وار کر! جس پر ماں نے کہا، میں نے اسی دن کے لیے بیٹا پالا تھا!
 غریب وسادہ ورنگین ہے داستان حرم
 نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسماعیلؑ 
سو سرزمین حرم ان عظیم داستانوں کی رازداں ہے۔ اور جابجا پس پردہ جبرئیل امین،ذومرۃ، شدید القویٰ کے پروں کی سرسراہٹیں سنی جاسکتی ہیں۔ ننھے اسماعیلؑ کے لیے زمزم بہاتے، اسماعیلؑ کا فدیہ، مینڈھا پیش کرتے، غار حرا سے لے کر بدر واحد کے میدانوں تک۔ کیا عظیم ورثہ ہے ہمارا جو آج آلودہ کیا جا رہا ہے اسی سرزمین پر اللہ کی حدود توڑکر رقص وسرود کے عالمی فساق وفجار کے ہالی ووڈ مناظر برپا کر کے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں من حیثیت الامت مغفرت کا پروانہ عطا فرما کر اس سرزمین کی پاکیزگی لوٹا دے۔ (آمین)
عصری تعلیم کے ادارے، میڈیا کے سبھی بھونپو ہماری نسلوں کو ڈارون، فرائڈ کی رطب ویابس اور سپرمین، سپائڈر مین، بیٹ مین کی تصوراتی تخیلاتی بے حقیقت داستانوں میں الجھائے ہوئے ہیں۔ اپنی عظیم تاریخ اور عبقری کرداروں سے لاعلم، جہل کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے۔ عیدین کی حقیقت اور عظمت سے بے بہرہ (ہم نصابی سرگرمیوں میں) ویلنٹائن ڈے اور ہیلو وین بھوت بلاؤں کی تاریکیوں سے حصہ بٹورتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری تربیت یوں فرماتے ہیں کہ انسانی تاریخ کے چنیدہ کرداروں سے ہماری ذہن سازی کرتے ہیں۔زندگی کے ہر دائرے میں اعلیٰ ترین شخصیات کے نمونے فکری اور عملی رہنمائی کرتے ہیں۔ ڈارون کی خرافاتی کہانی (Origin of Species) انسان کی ابتدا، کے مقابل خالق نے خود ہمارے باپ آدم علیہ السلام کی لاریب کہانی اہم ترین اسباق کے ساتھ پڑھا دی۔ فرائڈ کی بیمار ’جبلتی‘ ناپاک خرافات کے مقابل احسن القصص میں پیکر حسن وجمال سیدنا یوسف علیہ السلام کی بے مثل پاکیزہ جوانی کا کردار سامنے رکھ دیا۔ ان یتبعون الالظن وان ھم الایخرصون۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ (انعام۔ 116) ان کی ٹامک ٹوئیاں ہمارے بچوں کے نصابوں میں بھر دی گئیں، ہونق بے جہت نسلیں اٹھانے کو۔ حق وباطل کے معرکوں میں پوری دنیا سے مختلف ہوکر ڈٹ جانے کا نمونۂ عمل خانوادۂ ابراہیمیؒ آج کے نمارود کے مقابل جینے والوں نے جی کر اور جیت کو دکھا بھی دیا۔ مگر 20 سال امریکا کی بندگی میں، نسلوں کو برباد کر دینے والے حکمرانوں نے نیسلے اور کوک سٹوڈیو کے نوجوانوں کے پروگراموں میں انہیں تھرکنے پر لگا دیا۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں بے حجابانہ تھرک تھرک کر دعوت گناہ دیتے الاپتے ہیں۔ ’کچھ نیا کرو‘۔ خاندانی، قومی، ملی اقدار لٹاکر عزتیں داؤ پر لگاکر نور مقدم نما گناہوں کی دلدل اور بدترین انجام میں دھکیلنے کے اہتمام۔ خسر الدنیا والآخرۃ۔ یہ جو کچھ نیا ہو رہا ہے گھر خاندان اور خود لڑکے لڑکیوں کی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
یہ دونوں محاذ، حق اور باطل، رحمانی اور شیطانی تربیت، ورکشاپس متوازی چلتے ہیں زندگی کے ہر دائرے میں۔ شیطانی اغوا، ڈرامے فلمیں ٹک ٹاک وڈیوز قصے کہانیاں۔ دوسری جانب اللہ تعالیٰ پورے گلوب سے قلبِ دنیا (خانہ کعبہ کے عین مرکز میں ہے) میں آنے والوں کی تطہیر اور تزکیہ کرتا ہے۔ایمانی آکسیجن سے تازہ دم ہوکر لوگ دنیا بھر میں پھیل جاتے ہیں اس عظیم الشان خانوادے کی کہانی سے تازگی پاکر۔ اپنی دینی زندگی میں تازہ روح پھونکنے کا کام ہے یہ۔ ہم نے رسم محبت کو زندہ کیا، زخم دل جیت کر نقد جاں ہار کر… جیسے ولولے پانے کا یہ مقام ہے۔ مغرب کی روبوٹ بنی بے روح، بے جہت عورت یہاں پر دے کے تحفظ میں اپنی ماں ہاجرہؑ سے مامتا کی عظمت پاکر لوٹتی اور اپنے اصل مقام کو پہچان جاتی ہے۔ تربیت اولاد کا براہیمی اسوہ اور اماں ہاجرہؑ کی گود کے پالے سے معیارِ بندگی کھل کر سامنے آتا ہے۔
حج کی تربیت اور حاصل بھی یہی ہے کہ: 
دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ! 
جیسے بکرے کو چارہ ڈال کر اس کا مریل پن دور کرکے زندگی کی حرارت سے بھرپور بھاگتا دوڑتا، موٹا تازہ کرکے قربانی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اپنی قیمتی عبادات کو ایمان ِخالص، اسوۂ ابراہیمؑ وہاجرہؑ کی خوراک دے کر قربانی حج کو زندہ کرکے عید منانے کا حق بنتا ہے! ہماری دعائیں بھی جو سر سے اوپر نہیں اٹھتیں تو اس میں بھی بے روح ہونا اصل وجہ ہے۔ زندوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ 
تنِ بے روح سے بیزار ہے حق
خدائے زندہ، زندوں کا خدا ہے
ذی الحج کا سفر اسباق سے پُر ہے۔ پہلا سبق تو عقل سے دست برداری کا سبق ہے۔ عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی۔ جیسے مشکل سفر پر آپ ناسمجھ۔ بے صبر، کم عمر بچہ گھر چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ قدم قدم روئے گا، سوال کرے گا، اڑے گا۔ آپ کو ستائے گا۔ عین یہی کمزوریاں عقل کی بھی ہیں! اسی لیے اقبال کہتے ہیں:
صبحِ ازل یہ مجھے سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
یہ ہے داستانِ ابراہیمی۔ پورے خاندان، بستی سبھی انسانوں سے جدا، منفرد، تنہا۔ سب سے بغاوت کا اعلان۔ ستاروں، چاند، سورج کی خدائی والے خطے میں ان سب کی خدائی سے انکار! ’اے میری قوم میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔ میں نے تو یکسو ہوکر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘ (الانعام: 76,78,79 ) یہ کلمے ہی کا اظہار ہے۔ حکمراں ہے اک وہی، کا اعلان لاکھوں جھوٹے خداؤں بھری دنیا میں۔ اللہ کے لیے تنہائی برداشت کی تو ’خلیل اللہ قرار پائے! اللہ الشکور ہے اور یہ قدردانی کی معراج ہے۔ ایک امت مل کر بھی وہ صفات بہم نہ پہنچا سکتی جو ابراہیم علیہ السلام میں یک جا تھیں! کان امۃ قانتا للہ حنیفا۔ تنہا اپنی ذات ( ابراہیمؑ )سے ایک پوری امت، اللہ کا مطیع فرمان اور یکسو! (النحل۔ 120)
جس چاند، سورج کی قوت، طاقت، حسن کو دنیا بھر کے گمراہوں نے خدائی کا درجہ دیا، اس کی حقیقت ابراہیمؑ پر واضح تھی۔ آگے چل کر ان کے معظم بیٹے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا خوبصورتی سے مظاہر فطرت کی حقیقت واضح کی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کے انتقال پر لوگوں نے گرہن کا مشاہدہ کیا اور اسے آپؐ کے محبوب بیٹے کی جدائی سے منسوب کیا آپ نے اس کی تردید فرما دی کہ: ’سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں۔ کسی کے مرنے یا پیدا ہونے سے ان میں گرہن نہیں لگتا۔ جب تم دیکھو کہ ان میں گرہن لگ گیا تو خدا کو پکارو، اس سے دعائیں کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ سورج یا چاند صاف ہوجائے۔‘ (بخاری ومسلم) آج سائنس اس کی حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے کہ اللہ کی یہ نشانیاں کس طرح کار فرما ہیں۔ گرہن کی وجوہات۔ چاند کے مد وجزر کو ملاحظہ کیجیے کہ یہ کس طرح سمندر میں اونچی لہریں (اپنی کشش ثقل کی بنا پر) بحکم ربی اٹھاتا ہے ورنہ پورے سمندر میں ہم کیسا بڑا چمچہ کفگیر چلاتے کہ اس کا پانی اتھل پتھل ہوکر آکسیجن نیچے تک حل ہوتی!سمندری حیات کو درکار خوراک بہم پہنچتی۔ بہت سے فوائد مزید۔ سو ان دنوں میں روزے ایام بیض کے رکھو اور رب کی نشانیوں پر اس کی کبریائی کا اعتراف کرو! یہ ہے سائنسی دور سے ہم قدم دین! خدائے واحد، خالق کا پرستار!

مصنف کے بارے میں