Get Alerts

پاکستان نے غزہ میں فوری امداد اور ایندھن کی فراہمی کا مطالبہ کر دیا

پاکستان نے غزہ میں فوری امداد اور ایندھن کی فراہمی کا مطالبہ کر دیا

نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ سے غزہ میں امداد اور ایندھن کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، عاصم افتخار نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ کی بدترین انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

عاصم افتخار نے کہا کہ "دنیا غزہ کو مزید قحط اور بھوک کی صورت حال سے دوچار نہیں ہونے دے سکتی۔ فلسطینیوں کی اموات بھوک کی وجہ سے ہو رہی ہیں، اور یہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہے۔" انہوں نے اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ امن کے قیام کے لیے فلسطینی قیدیوں کی فوری رہائی ضروری ہے۔

پاکستانی مندوب نے غزہ میں امدادی نظام کی ناکامی پر بھی شدید اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق مئی کے آخر سے اب تک 798 امدادی کارکن اور افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 615 امدادی مراکز یا ان کے قریب مارے گئے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ "موجودہ امدادی نظام غزہ کے لوگوں کی مدد کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور یہ نظام ان لوگوں کے لیے موت کا جال بن چکا ہے، جنہیں یہ خدمت فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ امدادی سامان کی کمی نے لوگوں کو جنگی علاقوں میں جانے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں، جو کہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔

عاصم افتخار نے غزہ میں زندگی بچانے والی امداد کی کمی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "خاص طور پر بچوں کے لیے دودھ کی فراہمی میں بندش نے نوزائیدہ بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ غیر انسانی اور ناقابلِ دفاع صورتحال ہے۔"

انہوں نے غزہ میں ایندھن، ادویات، پناہ گاہوں اور دیگر ضروری سامان کی شدید کمی کا بھی ذکر کیا، جس سے اسپتالوں، پانی و صفائی کے نظام، ٹیلی کمیونیکیشن، بیکریوں، ایمبولینسوں اور امدادی کاموں کا بند ہونا یقینی ہے۔ "غزہ کی 21 لاکھ کی آبادی کے لیے یہ ایک تباہ کن صورتحال ہے، اور ہمیں فوری طور پر امدادی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل کی اجازت دینی ہوگی۔"

عاصم افتخار نے کہا کہ موجودہ امدادی نظام غزہ میں ایک خطرناک نظیر قائم کر رہا ہے، جس سے اقوام متحدہ کے غیر جانبدار امدادی نیٹ ورک کی جگہ ایک عسکری اور منتخب نظام قائم ہو رہا ہے۔ اس کا اثر صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں دیگر تنازعات میں بھی شہریوں کی حفاظت کے اصولوں کو خطرہ ہوگا۔

پاکستان نے اس موقع پر اقوام متحدہ سے فوری طور پر غزہ میں امداد کی فراہمی کی اجازت دینے، ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل کو بلا رکاوٹ یقینی بنانے اور فلسطین میں ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کے لیے عالمی برادری کے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

ٹیگز: