Get Alerts

جی 7 اجلاس میں ایران-اسرائیل جنگ پر اختلاف، ٹرمپ اجلاس چھوڑ کر واپس روانہ

جی 7 اجلاس میں ایران-اسرائیل جنگ پر اختلاف، ٹرمپ اجلاس چھوڑ کر واپس روانہ

کینیڈا : دنیا کی سات بڑی معیشتوں پر مشتمل جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر واضح اختلافات سامنے آ گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجلاس ادھورا چھوڑ کر واپس واشنگٹن جانے کا اعلان کر دیا۔

قطری میڈیا کے مطابق جی 7 اجلاس میں ایران-اسرائیل کشیدگی پر مشترکہ مؤقف اپنانا ممکن نہ ہو سکا، کیونکہ ٹرمپ نے کسی بھی متفقہ بیان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس انکار کے بعد اجلاس کا اختتام بغیر کسی اتفاق رائے کے ہوا۔

اجلاس کے اعلامیے میں اسرائیل کے دفاع کے حق کی توثیق کی گئی اور ایران کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والا ملک قرار دیا گیا۔ تاہم، یہ اعلامیہ صدر ٹرمپ کا مؤقف شامل کیے بغیر جاری کیا گیا۔

اجلاس میں یورپی ممالک اور جاپان کے درمیان بھی اختلاف دیکھا گیا۔ یورپی ممالک نے سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا، لیکن ساتھ ہی اسرائیل کے دفاعی اقدامات کی حمایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ملنے چاہئیں۔

دوسری طرف، جاپان نے اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت حالت جنگ میں ہے اور مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ اس صورتحال نے معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی قسم کے امن مذاکرات کے حامی نہیں۔

ٹرمپ کے اچانک واپسی کے فیصلے پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے حساس حالات کے پیشِ نظر ٹرمپ نے جی 7 رہنماؤں سے رخصت لی۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تہران کے شہریوں کو فوری انخلا کی تنبیہ کی، اور امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کو سچویشن روم تیار رکھنے کی ہدایت کی، جسے ایک ممکنہ جنگی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات اور اثاثوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

جی 7 کے جاری اعلامیے میں توانائی، عالمی منڈی کے استحکام، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے نکات شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم، اجلاس کے آخری دن تک بھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

ٹیگز: