Get Alerts

ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے 17ویں دن میں داخل، جوابی کارروائیوں میں اسرائیل اور خطے میں تباہی

ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے 17ویں دن میں داخل، جوابی کارروائیوں میں اسرائیل اور خطے میں تباہی

تہران: ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے اب سترہویں دن میں داخل ہو گئے ہیں، جس کے دوران تہران اور دیگر شہروں میں کئی دھماکے ہوئے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے "آپریشن وعدہ صادق 4" کے تحت اسرائیل اور امریکی اہداف پر جوابی حملوں کی 57 ویں لہر شروع کی، جس میں اسرائیل کے کئی علاقوں میں آگ لگ گئی اور متعدد عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

اطلاعات کے مطابق ایران میں اب تک 1500 سے زیادہ افراد شہید اور 18 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان میں بھی 900 کے قریب شہری ہلاک ہوئے۔ اسرائیل میں 15 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، لیکن اسرائیلی حکام ہلاکتوں کی حتمی تعداد ظاہر نہیں کر رہے۔

عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر بھی بار بار راکٹ اور ڈرون حملے کیے گئے، اور ابوظبی میں ڈرون حملے کے بعد آگ کو کنٹرول کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں کی تعداد 1900 سے تجاوز کر چکی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کے لیے بند رہے گی اور امریکا کے ساتھ کوئی بات چیت یا جنگ بندی میں دلچسپی نہیں ہے۔ ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے مسلم ممالک کو خط لکھ کر امریکی-اسرائیلی جارحیت کے خلاف اتحاد کی اپیل کی، جبکہ پاسداران انقلاب نے اسرائیل اور امریکی اہداف پر مختلف میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے۔

اس دوران، یورپی یونین نے خطے میں کسی فوجی آپریشن میں حصہ لینے سے انکار کر دیا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دینے کا اعلان کیا۔

تہران میں دھماکوں کی آوازیں سعد آباد پیلس اور دیگر اہم مقامات کے قریب سنی گئیں، اور دیگر شہروں جیسے شیراز اور کرج میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

ٹیگز: