منی فنانس بل پاس ہوگیا…!

Sajid Hussain Malik, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, e-paper

وزیر اعظم جناب عمران خان کی حکومت یقینا مبارک باد کی مستحق ہے کہ وہ محصولات میں 343ارب روپے کا اضافہ کرنے کے لیے منی فنانس بل یا دوسرے لفظوں میں ضمنی بجٹ قومی اسمبلی سے پاس کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ وہ اس لحاظ سے بھی مبارک باد کی حق دار ہے کہ مختلف حلقوں کی طرف سے ظاہر کیے جانے والے ان خدشات کہ عمران حکومت کو منی فنانس بل کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں ضروری اکثریت حاصل کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے اس کے باوجودوہ اپوزیشن جماعتوں کے 146ووٹوں کے مقابلے میں 163ووٹوں سے منی فنانس بل کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کے ساتھ اسے اپوزیشن کی پیش کردہ تمام ترامیم کو مسترد کرنے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یقینا یہ عمران خان حکومت کے لیے خوشی کے شادیانے بجانے اور اپنی کامیابی پر نازاں ہونے کا موقع ہے ۔اس سے بڑھ کر عمران حکومت کے لیے زیادہ اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس سے وہ آئی ایم ایف کی طرف سے ایک ارب ڈالر قرضے کی قسط ادا کرنے کے لیے محصولات میں اضافے اور مختلف اشیاء پر سبسڈیز کم کرنے یا ختم کرنے کی جو شرائط عائد کی جارہی تھیں، ان کو بھی پورا کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ یہ کامیابی اور اس پر خوشی کے شادیانے اپنی جگہ لیکن اس کے نتیجے میںجو اثرات سامنے آئے ہیں وہ بھی ایسے نہیں ہے جنہیں آسانی کے ساتھ نظر انداز کیا جا سکے۔یقینا کمر توڑ مہنگائی کے بڑھنے سے عوام کی جو درگت بن رہی ہے اور جس طرح عوام کو اپنی ضروریات کو پورا کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے اور مزید ناقابل برداشت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے نتائج عوام کی طرف سے حکومت کے خلاف ناراضگی اور غصے کی صورت میں سامنے آنے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ جناب عمران خان کی حکومت کی صفوں میں بھی دراڑیں پڑتی نظر آرہی ہیں۔ جناب عمران خان نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ پرویز خٹک جیسے ان کی پارٹی کے اہم راہنماان کے سامنے ایسی باتیں کریں گے جو عمران خان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو سکتی تھیں۔ یقینا یہ جناب عمران خان اور ان کی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہو سکتا ہے لیکن ان کے لیے منی فنانس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری لینے میں اپوزیشن کے ووٹوں کے مقابلے میں سترہ زائد ووٹ لیکر کامیابی حاصل کرنایقینا زیادہ خوشی کی بات ہو سکتی ہے اور اس سے بڑھ کر اطمینان بھی کہ ابھی ان کے سر پر دست شفقت سایہ فگن ہے اور ان کی حکومت کے لیے کسی طرح کا خطرہ نہیں ہے۔ 
دست شفقت کے سایہ فگن اور مددگار ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی میں فنانس بل کی منظوری سے حاصل ہونے والی خوشی اوراطمینان کب تک قائم رہتے ہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ایک بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ منی فنانس بل کے ذریعے 343ارب روپے کے محاصل اور وسائل حاصل کرنے کے لیے سبسڈیز کی واپسی اور سترہ فیصد جی ایس ٹی کا جو نفاذ عمل میں لایا گیا ہے وہ ایسا نہیں کہ عوام الناس اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر سکیں۔ اس لیے کہ اس کے نتیجے میں ہوش ربا مہنگائی میں جو اضافہ ہوا ہے اور عوام کے مختلف طبقات کی مشکلات جس طرح بڑھی ہیں اور ان کے لیے دو وقت کی روٹی کاحصول انتہائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بنا دیا گیا ہے تو کون اس کوبھلا سکتا ہے یا نظر انداز کر سکتا ہے۔ بلاشبہ خطہ غربت سے نیچے 
زندگی بسر کرنے والوں سے لے کر نچلے متوسط طبقے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے پہلے ہی اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور تھا۔ اب منی فنانس بل کی منظوری اور اس کے تحت ٹیکسوں کے نیٹ ورک میں اضافے کی صورت میں عوام الناس کے ان طبقات کے لیے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنا اور اپنے کنبوں کی کفالت کرنا یقینا دشوار تر ہو رہا ہے۔ ان حالات میں حکومت کی طرف سے عوام کی خوشحالی اور ملک کی معاشی ترقی کے دعوے اور ان پر خوشیاں بجا لانا یقینا عوام الناس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ 
منی فنانس بل یا ضمنی بجٹ کے تحت کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اقتصادی ماہرین کے جو تبصرے ، تجزیے اور خیالات سامنے آئے ہیں اور ماہرین معیشت پاکستان کی معاشی بدحالی اور عوام الناس کو درپیش مشکلات اور تکالیف کے بارے میں جن خدشات ، تحفظات اور پریشان فکری کا اظہار کر رہے ہیں یہ سب کچھ ایسا نہیں ہے جسے آسانی سے نظر انداز کیا جا سکے۔ ماہرین معیشت کا یہ کہنا بڑی حد تک درست ہے کہ منی فنانس بل کے نفاذ سے معیشت اور پیداواری عمل پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ خام مال مہنگا ہونے سے صنعتی پیداوار سست روی کا شکار ہی نہیں ہوگی بلکہ اس سے مختلف اشیاء کی قیمتوں میں جان لیوا اضافہ ہوگا۔ منی فنانس بل میں درآمدی موبائل فونز، جیولری ، شیرخوار بچوں کے پانچ سو روپے مالیت سے زیادہ کے دودھ ، ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے درآمدی خام مال ، صنعتی و تجارتی آلات اور زرعی بیجوں سمیت 140سے زائد اشیاء پر 17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ اسی طرح درآمدی زندہ جانوروں، گوشت، ہیچنگ انڈوں ، ٹی بی ، لیپرو سکوپی ، ایڈز اور کینسر کی تشخیص کے آلات، گونگے بہرے اور اندھے افراد کے علاج اور بحالی کے لیے استعمال میں آنے والے آلات پر بھی سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی قیمتوں میں کم از کم سترہ فیصد اور ہمارے ناجائز منافع خوری کے قومی رجحان کو سامنے رکھا جائے تو اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ پیکنگ شدہ درآمدی چکن، ڈیری فارم اشیاء ،مچھلی کی خوراک اور سلائی مشینوں پربھی دی جانے والی سبسڈیز کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ گویا اس فہرست میں آنے والی تمام اشیاء کی قیمتوں میں یک مشت 17فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔
منی فنانس بل کی منظوری سے حکومت کے لیے بلاشبہ 343ارب روپے کے اضافی محصولات اور وسائل حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے لیکن اس کے بدلے میں اسے جس طرح کے مسائل ،مشکلات اور پریشانیوں کا اور عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور پـڑ رہا ہے وہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔یہ درست ہے کہ حکومتوں کو اپنے روزمرہ کے معمولات چلانے اور اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے اور ملکی سلامتی اور دفاع کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے اور عسکری اور سول ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے مصارف پورا کرنے کے ساتھ قرضوں پر عائد سود کی ادائیگی کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہو سکتی ہے لیکن ان مسائل کے حصول کے لیے عوام کو نان جویں کا محتاج بنانا یقینا مستحسن اقدام نہیں ہو سکتا۔ 
منی فنانس بل یا ضمنی بجٹ میں 343ارب روپے کے اضافی وسائل حاصل کرنے کے لیے سبسڈیز کے خاتمے اور 17فیصد GSTکے نفاذ سے عوام الناس جس ناروا بوجھ کے نیچے دبنے والے ہیں وہ اپنی جگہ پر کچھ کم تکلیف دہ اور ناقابل برداشت نہیں ۔ اس پر مستزاد چند دن قبل بجلی کے بلوں میں Fuel Adjustmentکی مد میں چار روپے فی یونٹ اضافے کا جو اعلان سامنے آچکاہے ، اس کے نتیجے میں اربوں روپے کا جو اضافی بوجھ صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا یقینا ایسا نہیں ہے کہ جس کے خلاف احتجاجی آوازیں بلند نہ ہوں۔ پھر بات اسی پھر ختم نہیں ہوئی ۔ 16جنوری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین روپے فی لیٹر تک اضافے کا جو بم عوام پر گرایا گیا ہے اس کے اثرات سمیٹنا یا برداشت کرنا بھی عوام کی بس کی بات نہیں۔ یہ کہہ دینا آسان ہے کہ جناب وزیر اعظم نے اوگرا کی طرف سے قیمتوں میں زیادہ اضافے کی سمری مسترد کردی یا اتنے ارب روپے کا بوجھ خود حکومت کو برداشت کرنا پڑے گا۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اعلیٰ سرکاری عمال جن میں کابینہ کے ارکان سمیت مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے افسران بالا اور اہل کار شامل ہیں اور جنہیں آمدورفت کے لیے ایک ایک نہیں بلکہ کئی کئی گاڑیاں ملی ہوئی ہیں اور یہ گاڑیاں صرف سرکاری اور دفتری استعمال میں ہی نہیں آتیں بلکہ سرکاری عمال کے اہل خانہ کے گھریلو اور نجی استعمال میں بھی لائی جاتی ہیں۔ کاش ان سرکاری عمال کو ان گاڑیوں میں پٹرول اور ڈیزل وغیرہ اپنی جیب سے ڈلوانا پڑے تو پھر ان کو اندازہ ہوگا کہ ہر دو ہفتے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو برداشت کرنا کتنا مشکل ہے ۔لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جب سرکاری وسائل حلوائی کی دکان اور نانا جی کی فاتحہ کی حیثیت رکھتے ہوں تو پھر کس نے ان کا خیال کرنا ہے۔