اسرائیلی کابینہ کی طرف سےرفح پر حملے کے منصوبے کی منظوری

اسرائیلی کابینہ کی طرف سےرفح پر حملے کے منصوبے کی منظوری

غزہ: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے رفح پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جہاں 1.4 ملین بے گھر فلسطینیوں نے پناہ حاصل کر رکھی ہے۔

اسرائیل کے اتحادیوں اور ناقدین نے بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کے خدشے کے پیش نظر نیتن یاہو کو رفح پر حملے کے خلاف خبردار کیا تھا، لیکن اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ جنوبی غزہ کا علاقہ حماس کے آخری مضبوط گڑھوں میں سے ایک ہے جسے اس نے ختم کرنے کا  اعادہ کیا ہے۔ جس کے پیش نظر  اسرائیلی کابینہ نے رٖفح پر حملہ کرنے کے منصوبے کی اجازت دے دی ہے۔ 

اسرائیلی کابینہ نے رفح پر حملے کی منظوری دے دی تاہم اضافی جنگی بجٹ ابھی منظور نہیں ہوا۔ البتہ کابینہ کی طرف سے رفح پر حملے کی منظوری بنجمن نیتن یاہو کے لیے ایک حوصلہ افزا اقدام ہے۔

جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل 15 لاکھ فلسطینیوں کو رفح میں نہیں رہنے دے گا بلکہ ان کو ان کو ایک محفوظ جگہ دی جائے گی۔

 جبکہ ساتھ ہی ساتھ اسرائیل نے حماس کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز کو  ”مضحکہ خیز“ ‬ قرار دینے کے بعد قطر میں مزید جنگ بندی مذاکرات کے لیے ایک ٹیم بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

جمعہ کو رات گئے نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج رفح کی ”آپریشنل اور آبادی کے انخلاء کے لیے تیاری کر رہی ہے“۔تاہم اس نے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا اور زمین پر اضافی تیاریوں کا کوئی فوری ثبوت ابھی تک نہیں ملا۔

حماس نے غزہ پر اسرائیل کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کیا تھا جس میں فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی اسیروں کی رہائی بھی شامل ہے،عرب میڈیا ذرائع کے مطابق  یہ تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی ہوگی، جس کا ہر مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا۔

واشنگٹن میں، وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکہ نے رفح منصوبہ نہیں دیکھا، لیکن وہ پہلے منصوبہ دیکھنا  چاہتے ہیں۔ انہوں نے باقاعدہ بریفنگ میں بتایا کہ یرغمالیوں کے لیے حماس کی جنگ بندی کی تجویز اس حد کے اندر ہے جو ممکن ہے اور اس کے بارے میں محتاط امید کا اظہار کیا۔

مصنف کے بارے میں