دوشنبہ/ کابل : عالمی جریدے ’’دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا‘‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کی مبینہ سرپرستی نے پورے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے پڑوسی ممالک کی سماجی اور معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
تاجک سکیورٹی فورسز نے سرحد پر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے دو افغان منشیات سمگلروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی مبینہ پشت پناہی کے باعث سرحد پار منشیات کی سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت دیگر پڑوسی ممالک کی معاشی سلامتی داؤ پر لگ گئی ہے۔ غیر قانونی عناصر کی نقل و حرکت نے ان ممالک کے معاشرتی ڈھانچے کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کابل انتظامیہ نے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے تو خطے میں طویل مدتی بدامنی پیدا ہو سکتی ہے۔ عالمی جریدے کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب عالمی برادری مسلسل طالبان سے اپنی سرزمین کو دہشت گردی اور جرائم کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تاجک سرحد پر حالیہ ہلاکتوں نے پڑوسی ممالک کے بڑھتے ہوئے تحفظات کو مزید واضح کر دیا ہے۔