Get Alerts

ایس ایم تنویر کا صنعتی بجلی نرخوں سے 131 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ

ایس ایم تنویر کا صنعتی بجلی نرخوں سے 131 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ

لاہور: ایف پی سی سی آئی کے رہنما اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے پیٹرن ان چیف  ایس ایم تنویر نے صنعتی بجلی کے نرخوں میں شامل کراس سبسڈی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پالیسی کے باعث پاکستان کی صنعتی مسابقت اور برآمدی صلاحیت مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
ایس ایم تنویر نے حکومت اور وزیرِ توانائی (پاور ڈویژن) سے مطالبہ کیا کہ صنعتی بجلی کے نرخوں سے فوری طور پر کراس سبسڈی ختم کی جائے اور صنعت کو مالی اصلاحات کا متبادل نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعت کا تحفظ کسی رعایت نہیں بلکہ معاشی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت صنعتی بجلی کے نرخوں پر فی یونٹ 4.5 سے 7 روپے تک کراس سبسڈی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جس کا مجموعی حجم 131 ارب روپے بنتا ہے۔ اس اضافی بوجھ کے باعث بجلی کی لاگت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ صنعت پہلے ہی مہنگی بجلی کے باعث مشکلات کا شکار ہے اور کئی صنعتی یونٹس بندش یا طویل مدتی سکڑاؤ کی طرف جا رہے ہیں۔
ایس ایم تنویر نے نشاندہی کی کہ گزشتہ چند برسوں میں پروٹیکٹڈ کنزیومرز کی تعداد تقریباً دوگنا ہو چکی ہے، تاہم ان صارفین کو مالی گنجائش کے ذریعے سہولت دینے کے بجائے حکومت نے یہ بوجھ صنعت پر ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح صنعت کو نظام کی ناکامیوں کا متبادل بنا دیا گیا ہے، حالانکہ صنعت ہی وہ شعبہ ہے جو باقاعدگی سے ادائیگیاں کرتا ہے، بجلی استعمال کرتا ہے اور روزگار پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاور منسٹری کی جانب سے اکثر بہتر کارکردگی اور شعبے کے استحکام کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود فی یونٹ تقریباً 9 سینٹ کا مسابقتی بجلی نرخ فراہم نہیں کیا جا سکا۔ اگر شعبہ واقعی بہتر ہو رہا ہے تو اس کا فائدہ سب سے پہلے پیداواری معیشت میں نظر آنا چاہیے، بصورت دیگر اصلاحات کے دعوے بے معنی ہیں۔

ایس ایم تنویر نے حکومت کے برآمدات بڑھانے اور آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کے اہداف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صنعتی بنیاد کو کمزور کر کے یہ مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ دنیا کی کوئی بھی معیشت برآمد کنندگان کو غیر مسابقتی بنا کر ترقی حاصل نہیں کر سکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی پیکج میں لاگو کیے گئے لوڈ فیکٹرز کی کوئی تکنیکی یا ریگولیٹری بنیاد نہیں اور یہ چوری یا ڈیٹیکشن بلنگ کے نظام سے لیے گئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس سے حقیقی طلب میں اضافہ ہونے کے بجائے صنعت کے اندر طلب کی منتقلی ہو گی، جس سے مزید بگاڑ اور عدم اعتماد پیدا ہوگا۔

ٹیگز: