ماسکو/بیجنگ:روس اور چین نے ایران پر اسرائیلی حملے کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال اور خطے میں امن کو لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔
کریملن کے مطابق دونوں صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تمام تنازعات کو صرف سفارتی اور پرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، جبکہ فوجی حل کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔چینی صدر نے روس کی ثالثی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ روس کا کردار کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی ہو سکتا ہے۔ ہمیں علاقائی امن کے لیے سنجیدہ سفارتی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ ایران نے روس سے کسی قسم کی فوجی مدد نہیں مانگی۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ اس تنازعے میں فوجی مداخلت سے مکمل گریز کرے۔
مزید برآں، روسی صدر اگلے ماہ چین میں جنگ عظیم دوم کی یادگاری تقریبات میں شرکت کریں گے۔