Get Alerts

پاکستان نے جنگ اور سفارت کاری دونوں محاذوں پر بھارت کو شکست دی:بلاول بھٹو

پاکستان نے جنگ اور سفارت کاری دونوں محاذوں پر بھارت کو شکست دی:بلاول بھٹو

کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف جنگی میدان میں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی بھارت کو شکست دی ہے، جو آبادی اور حجم میں پاکستان سے سات گنا بڑا ملک ہے۔

امریکا، برطانیہ اور یورپی ممالک کے دورے سے وطن واپسی پر کراچی ایئرپورٹ (اولڈ ٹرمینل) پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کے حالیہ دورے کے دوران پارلیمانی سفارتی وفد نے 70 سے زائد اہم ملاقاتیں کیں، جن کے مثبت نتائج عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کی فتح کی صورت میں سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی میں پاک فوج نے بھارت کو عبرتناک شکست دی، اور دشمن کی جارحیت کو مؤثر انداز میں جواب دیا۔ بلاول کے مطابق بھارت کی کوشش تھی کہ جنگ میں ناکامی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان کو نقصان پہنچائے، لیکن پاکستان نے یہ جنگ بھی اصول، سچ اور آئینی مؤقف کے ساتھ جیتی۔

بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے حالیہ معرکے میں بھارت کے 6 جنگی طیارے مار گرائے، جس کا آغاز میں بھارت نے انکار کیا، لیکن اب اسے ماننا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کے بقا کا معاملہ ہے، اور اگر بھارت نے دریا کی طرف میلی آنکھ اٹھائی تو پاکستان ایک اور جنگ لڑے گا اور اپنے چھ کے چھ دریا واپس لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات دراصل پیپلز پارٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش تھے، لیکن ہم نے اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر مؤثر طور پر پاکستان کا مقدمہ لڑا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف قیادت کر رہے ہوں تو بھارت کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر دور میں مظلوم کشمیریوں کی آواز بلند کی ہے اور یہ جدوجہد آئندہ بھی جاری رہے گی۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مخالفین اور قوم پرست جماعتیں سندھ طاس معاہدے پر بھارتی خلاف ورزیوں پر خاموش کیوں ہیں؟ اور جب سندھ پر حملہ ہوا تو یہ آوازیں کہاں تھیں؟ ان کا کہنا تھا کہ قوم کبھی ایسے سیاسی یتیموں کو معاف نہیں کرے گی۔

آخر میں بلاول بھٹو زرداری نے عزم ظاہر کیا کہ پیپلز پارٹی آنے والے الیکشن میں بھی ان قوتوں کو شکست دے گی جو قومی اتحاد کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔

ٹیگز: