تہران/ اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی کرانے اور خطے کو کسی بڑے بحران سے بچانے کے لیے پاکستان کے امن مشن میں تیزی آ گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کے ہنگامی دورے کے دوران ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایرانی ہم منصب سکندر مومنی اور اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈر انچیف جنرل احمد واحدی سے الگ الگ انتہائی اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
ایرانی صدارتی محل میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کے مخلصانہ کردار کو بھرپور انداز میں سراہا۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی یہ کوششیں مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کا اتحاد اور ہم آہنگی بیرونی قوتوں کی مداخلت کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔
دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی اور آئی آر جی سی کے سربراہ جنرل احمد واحدی سے بھی تفصیلی مشاورت کی۔ ملاقاتوں میں پاک۔ایران سرحد کی سیکیورٹی، دوطرفہ تجارتی امور اور ایران امریکہ مذاکرات کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے سامنے آنے والی نئی تجاویز پر غور کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے ایرانی قیادت کو باور کروایا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور فریقین کو دوبارہ براہِ راست مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا ہر ممکن کردار ادا کرتا رہے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، محسن نقوی کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس کا مقصد عارضی جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرنا اور اسلام آباد میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔