اسلام آباد: پاکستانی سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے علاقے کرم میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف دو بڑی کامیاب کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں 23 دہشت گرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائیاں علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے کی گئیں، جن میں 12 دہشت گردوں کی ہلاکت ضلع کرم میں ایک کارروائی کے دوران ہوئی جبکہ ایک اور کارروائی میں 11 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، دونوں آپریشنز کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا سراغ لگاتے ہوئے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی۔ اس دوران بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کے کئی اہم ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وطن کی دفاع میں اپنے عزم پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے اور ان کے خلاف کارروائیوں کی کامیاب تکمیل پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کی پختہ ارادے کا غماز ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی عوام دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جرات قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کا عزم پختہ ہے۔
واضح رہے کہ "عزمِ استحکام" کے تحت سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کی مہم پوری شدت کے ساتھ جاری ہے، اور یہ کارروائیاں اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی تمام شکلوں کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔