واشنگٹن / تہران : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت گیر حکمت عملی اپناتے ہوئے محدود فوجی حملے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ معروف امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق، اس ممکنہ فوجی کارروائی کا مقصد تہران کو نئے جوہری معاہدے پر امریکی مطالبات ماننے کے لیے مجبور کرنا ہے۔
فوجی حملہ تہران پر دباؤ ڈالنے کی مہم کا پہلا مرحلہ ہوگا، جس کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ابتدائی طور پر ایران کی چند مخصوص فوجی تنصیبات اور سرکاری مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ ایرانی قیادت کو واضح پیغام دیا جا سکے۔ یہ حملہ بڑے پیمانے کی جنگ کے بجائے ایک "سرجیکل سٹرائیک" کی طرز پر ہوگا تاکہ ایران کی دفاعی اور انتظامی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے اپنے ارادے واضح کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے پاس نئے معاہدے کے لیے اب صرف 10 سے 15 دن باقی ہیں۔ ہم یا تو ایک اچھا معاہدہ کریں گے، یا پھر ہمیں وہ کرنا پڑے گا جو ایران کے لیے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہو سکتا ہے۔"