Get Alerts

امریکی حملوں کی تصدیق ، ایران کا آبنائے ہرمز بند اور امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان

 امریکی حملوں کی تصدیق ، ایران کا آبنائے ہرمز بند اور امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان

تہران : ایران نے امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے آبدی ہرمز کو بند کرنے اور جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنی کارروائیوں کا حساب دینا ہوگا اور ایران بدلے کی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی اثاثوں کو نشانہ بنائے گا اور اس کے بعد یورپ کی طرف کوئی بحری بیڑہ نہیں پہنچ پائے گا۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ خطے میں موجود ہر امریکی شہری یا فوجی ان کے حملوں کا ہدف ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک ٹیلی گرام پوسٹ میں کہا کہ "امریکا جنگ میں اپنے نقصان کے لیے داخل ہوگیا ہے، امریکا کو پہنچنے والا نقصان ایران سے کہیں زیادہ ہوگا۔" ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع میں مکمل طور پر تیار ہے اور جنگ کے اس مرحلے کو مزید بڑھنے نہیں دے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے امریکی حملوں کو "سنگین نتائج" کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے دیرپا اثرات ہوں گے اور یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام اختیارات محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی جوہری توانائی تنظیم نے امریکی حملوں کو "وحشیانہ" قرار دیا اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس کا کہنا تھا کہ ایجنسی نے اس معاملے میں لاپرواہی دکھائی ہے۔

ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ حملے کے دوران جوہری تنصیبات میں کوئی تابکاری اخراج نہیں ہوا۔ فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری سائٹس پر حملے کیے گئے تھے، تاہم ایران کے مطابق ان حملوں میں جوہری مواد کو نقصان نہیں پہنچا اور ان کے اثرات محدود تھے۔ قم شہر اور اردگرد کے علاقوں کے رہائشیوں کو کسی قسم کے تابکاری سے متعلق خطرات لاحق نہیں ہیں۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کی مذمت کرے اور ایران کی جائز پوزیشن کی حمایت کرے۔ ایران نے یقین دہانی کروائی کہ امریکی حملوں کے باوجود اس کی جوہری صنعت کی ترقی کا عمل جاری رہے گا اور ایرانی سائنسدان اس میدان میں آگے بڑھتے رہیں گے۔

ٹیگز: