استنبول : نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پاکستان کو گہری تشویش ہے، ایران کو عالمی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کو بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے یہ بات استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی سطح پر دوہرا معیار اختیار کیا جا رہا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے امن و استحکام کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہونے دیا جائے گا، اور صرف مذاکرات ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے کا راستہ ہیں۔ پاکستان خطے میں قیامِ امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے اجلاس کے دوران غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا، اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا حصول مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو "جنگی اقدام" قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا انتباہ بھی دیا۔