واشنگٹن: وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک لرزہ خیز بیان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین لہجہ اپناتے ہوئے 48 گھنٹے کا حتمی الٹی میٹم جاری کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ سمیت ایشیا اور یورپ میں دفاعی ہائی الرٹ نافذ ہے۔
صدر ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے نہیں کھولا، تو امریکہ ایران کے تمام پاور پلانٹس کو ملبے کا ڈھیر بنا دے گا۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں صدر ٹرمپ نے یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا کہ تزویراتی (Strategic) طور پر "امریکہ نے ایران کو نقشے سے مٹا دیا ہے"۔ اس بیان کو عالمی سطح پر ایران کے لیے 'آخری وارننگ' قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
اس الٹی میٹم کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا خدشہ ہے۔خلیجِ فارس میں امریکی بحری بیڑے اور بمبار طیاروں کو 'ایکشن' کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔جنوبی اسرائیل کے شہر 'عراد' میں ہونے والی تباہی کے بعد اب پورے خطے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔