اسلام آباد:نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ چین کے حالیہ دورے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ چین نے پاکستان کی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور پاکستان، چین، اور افغانستان نے خطے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ چین سی پیک ٹو شروع کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں جدید انفراسٹرکچر، ہائی ویز اور تجارتی راہداریوں کا قیام شامل ہوگا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ سہ فریقی اجلاس میں افغان مہاجرین کی صورتحال، تجارت، اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ، چین نے پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کا وعدہ کیا ہے، خاص طور پر کشمیر کے معاملے پر، اور سی پیک کے منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ چین ایک بڑی بین الاقوامی تنظیم "انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن" بنانے جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر امن قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔ یہ تنظیم ہانگ کانگ میں قائم کی جائے گی اور اس پر 30 مئی کو دستخط متوقع ہیں۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان، چین اور افغانستان نے دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا عہد کیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں اہم منصوبے جیسے پشاور سے کابل تک ہائی وے اور کراچی-حیدرآباد موٹروے شامل ہوں گے، جس سے وسطی ایشیا تک تجارتی رابطے مضبوط ہوں گے۔