تنخوا ہ صرف ساڑھے تین لاکھ مگر فیصلے اربوں کے، ہمیں اپنی پالیسیوں کا ازسر نوجائزہ لینا ہوگا : نگران وزیر اعظم کاکڑ کا شکوہ

 تنخوا ہ صرف ساڑھے تین لاکھ مگر فیصلے اربوں کے، ہمیں اپنی پالیسیوں کا ازسر نوجائزہ لینا ہوگا : نگران وزیر اعظم کاکڑ کا شکوہ
سورس: File

کراچی: نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نگران حکومت شفاف انتخابات کیلئے اقدامات کررہی ہے، اقتدار کی پرامن منتقلی ہماری پہلی ترجیح ہے ۔ 

 
 نگران وزیراعظم نےتاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو توانائی، مہنگائی،  بے روزگاری اورخوراک کی کمی کا سامنا ہے ،ملک میں معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی کوششوں میں تاجر برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ وزیراعظم کو تنخواہ تو ساڑھے تین لاکھ دی جاتی  ہے اور فیصلے اربوں کے کرائے جاتے ہیں۔ہمیں اپنی پالیسیوں کا ازسر نوجائزہ لینا ہوگا۔ ہمیں ہماری کوتاہیاں تسلیم کرنی ہوں گی اور قلیل، طویل مدتی منصوبوں پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مینڈیٹ بہت محدود ہے، نئے پارلیمان کے وجود تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے، نگران حکومت بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور شفاف انتخابات کیلئے اقدامات کررہی ہے۔

نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان قیمتی معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، ہمارے پاس  6ٹریلین ڈالرز کےمعدنی ذخائر ہیں،25کروڑ لوگ مایوس ہیں ،   انسانی وسائل سے آنے والا زرمبادلہ ملکی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کرنے والے لوگ ہمیشہ محترم ہوتے ہیں، ہمارے نبیﷺ تاجر تھے، انسان کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ فرد واحد کے لیے نہیں ہوتیں، نعمتیں شیئر کرنے کے لیے ہوتی ہیں، کمانا ہدف نہیں ہے، نعمتیں شیئر کرنا سنت ابراہیمی ہے۔

نگران وزیراعظم کا مزید کہناتھا کہ تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے ہر وقت میسر ہوں،   سنجیدہ انداز میں غوروفکر کے ساتھ مل کر ہم تمام سوالات  کے جوابات ڈھونڈ سکتے ہیں۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل خدمت اور عبادت ہے ، تاجر برادری ملک میں فنی تربیت کے فروغ میں کردار اداکرے،  ہر ممکن کوشش کریں گے کہ تاجروں کے مسائل حل ہوں، ہم کاروباری طبقے کو سنیں گے پھر ہم چاہتے ہیں کہ کاروباری طبقہ حکومت اور ریاست کو  بھی سنے۔

مصنف کے بارے میں