خضدار : بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکول بس پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والے طلبہ کی تعداد 6 ہو گئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدید زخمی طالب علم حیدر اور طالبہ مائکہ دورانِ علاج دم توڑ گئے۔ شہداء میں 5 طالبات اور 1 طالب علم شامل ہیں۔
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب سکول کے بچے معمول کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس جا رہے تھے۔ مسلح دہشت گردوں نے گھات لگا کر اسکول بس پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کئی طلبہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کی کارروائی ہے، جو بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے خطے میں دہشت اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کے خون کا حساب لیا جائے گا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ "فتنۃ الہندوستان اور اس کے بھارتی آقاؤں کو معصوم خون بہانے کا حساب دینا ہو گا۔"
ادھر ملک بھر میں اس واقعے کے خلاف شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں، سماجی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں نے واقعے کی سخت مذمت کی ہے اور حکومت سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔صدر، وزیراعظم اور اعلیٰ عسکری قیادت نے واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔