نئی دہلی:کانگریس کے سینئر رہنما اور اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھارتی مفادات کی قربانی دینے اور ملکی خارجہ پالیسی میں سنگین ناکامیوں کا مرتکب قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت پر عوام کو حقائق سے دور رکھنے اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے غیر ضروری سفارتی دوروں اور بیانات کا سہارا لینے کا الزام عائد کیا۔
راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وزیراعظم سے تین اہم سوالات کیے: پاکستان کے دہشتگردی کے الزامات پر انہیں اعتماد کیوں ہے؟ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے بھارتی مفادات کی قربانی کیوں دی گئی؟ اور غصہ صرف کیمروں کے سامنے کیوں ظاہر ہوتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ’عوامی ہتھیار‘ کے طور پر سفارتی دوروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ راہول گاندھی نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے رویے نے ملک کے بین الاقوامی تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے اور یہ عوام کے لیے باعث تشویش ہے۔
یہ بیان آپریشن سندور کے بعد سامنے آیا ہے، جب کانگریس نے ابتدا میں حکومت کی حمایت کی تھی، مگر اب سیاسی تنقید میں شدت آ گئی ہے۔ راہول گاندھی کے الزامات نے بھارتی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔