Get Alerts

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش کا انڈیا میں کھیلنے سے انکار، مالی نقصان کا سامنا

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش کا انڈیا میں کھیلنے سے انکار، مالی نقصان کا سامنا

ابوظہبی: بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ کئی مراحل میں ہونے والے مذاکرات اور مختلف پیچیدہ صورتحال کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور عبوری حکومت نے انڈیا میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ میں نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بی سی بی نے کہا ہے کہ وہ ابھی بھی اپنی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم ورلڈ کپ کی ابتدا میں صرف دو ہفتے باقی رہ جانے کے باعث آئی سی سی نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس وقت کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔

آئی سی سی کی طرف سے ہفتے کے روز اعلان کیا گیا کہ بنگلہ دیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہ کھیلنے کے فیصلے کے بعد سکاٹ لینڈ کو اس ایونٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

آئی سی سی کے عالمی ایونٹس کرکٹ بورڈز اور کھلاڑیوں کے لیے اہم مالی وسائل فراہم کرتے ہیں، اور اس ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور اس کے کھلاڑیوں کو نمایاں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر بنگلہ دیش ورلڈ کپ میں شریک ہوتا تو اسے تقریباً چار کروڑ ٹکا (تقریباً تین لاکھ امریکی ڈالر) ملنے تھے۔

اگر کوئی ٹیم ٹاپ 12 میں جگہ بناتی، تو اسے مزید پانچ کروڑ ٹکا سے زائد (تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر) کی رقم ملتی۔

اگر بنگلہ دیش ورلڈ کپ سے باضابطہ طور پر دستبردار ہو جاتا ہے، تو اس کا سب سے بڑا مالی اثر کھلاڑیوں پر پڑے گا کیونکہ وہ میچ فیس، پرفارمنس بونس اور انعامی رقم کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے، جس سے کھلاڑیوں کی ذاتی آمدنی میں کمی کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو بھی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی سی سی سے شرکت فیس کی صورت میں تین لاکھ سے پانچ لاکھ امریکی ڈالر ملنے کی توقع تھی، جو اب حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ بنگلہ دیشی کرنسی میں یہ رقم تقریباً چار سے چھ کروڑ ٹکا بنتی ہے، جو کہ بورڈ کے لیے ایک بڑا مالی نقصان ہے۔
 
 

ٹیگز: