دوسری کشتی میں چھلانگ لگانے والے کو سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے: چیف جسٹس آف پاکستان 

دوسری کشتی میں چھلانگ لگانے والے کو سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے: چیف جسٹس آف پاکستان 

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ اپنی جماعت سے انحراف کے 2 طرح کے نتائج ہو سکتے ہیں، ایک سیاسی ہے اور دوسرا آئینی و قانونی۔ دوسری کشتی میں چھلانگ لگانے والے کو سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، جتنا مرضی غصہ ہو پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنا چاہئے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام دیا گیا ہے اور اصل سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے، اطلاق کب سے شروع ہو گا، عدالت نے سماعت کل دوپہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاءبندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ ریفرنس پر سماعت سے قبل سپریم کورٹ بار، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے تحریری جوابات بھی جمع کرائے۔ 
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں آج بھی وہی مسئلہ درپیش ہے، وکلا اور ان کے معاونین عدالت میں رہیں جبکہ غیر ضروری لوگ کمرہ عدالت سے نکل جائیں، اگر رش کو کم نہ کیا گیا تو کسی کو دلائل کی اجازت نہیں دیں گے، ہم سکرین بھی فکس کریں گے تاکہ باہر کارروائی دیکھی جا سکے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ کو سنیں گے، ہم نے سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کر رکھے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں ہم صوبوں کو بھی نوٹس جاری کریں؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں صوبوں کا کردار نہیں، لیکن ہر عدالت کی صوابدید ہے، وزارت اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں جمع نہیں ہیں، سپریم کورٹ نے معاونت کیلئے تمام صوبوں کو نوٹس جاری کر دئیے۔ 
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جے یو آئی اور پی آئی ٹی نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی، جے یو آئی نے کشمیر ہائی وے پر دھرنے کی درخواست کی ہے، کشمیر ہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ائیرپورٹ کو جاتا ہے، کشمیر ہائی وے سے گزر کر ہی تمام جماعتوں کے کارکنان اسلام آباد آتے ہیں، قانون کسی کو ووٹنگ سے 48گھنٹے پہلے مہم ختم کرنے کا پابند کرتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت چاہے گی سیاسی جماعتیں آئین کے دفاع میں کھڑی ہوں گی، معلوم نہیں عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی؟ جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوری عمل کا مقصد روزمرہ امور کو متاثر کرنا نہیں ہوتا۔ 
جے یو آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہمارا جلسہ اور دھرنا پرامن ہو گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں ، اس پر عدالت میں قہقہہ بلند ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی پر امن رہے تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی اسلام آباد سے بات ہو گئی ہے اور ہم پولیس کے اقدامات سے مطمئن ہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اچھی بات یہ ہے  پولیس قانون کے مطابق کارروائی کررہی ہے، صوبائی حکومتیں بھی تحریری طور پر اپنے جوابات جمع کرائیں، جس کے بعد ہی صدارتی ریفرنس پر سماعت ہو گی۔ 
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ چار مواقع پر اراکین اسمبلی کا پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی ہے، پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی بنانے کے لیے آرٹیکل 63اے لایا گیا جبکہ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے کہ سیاسی جماعتیں ادارے ہیں اور ڈسپلن کی خلاف ورزی سے ادارے کمزور ہوتے ہیں، پارٹی لائن کی پابندی نہ ہو تو سیاسی جماعت تباہ ہو جائے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے سیاسی اور قانونی محرکات الگ ہیں، سیاسی اثر تو یہ ہے کہ رکن کو دوبارہ ٹکٹ نہیں ملے گا جبکہ آئینی نقطہ یہ ہے کہ نااہل ہو جائے گا۔ 
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ کیا اراکین پارٹی کیساتھ اپنے حلقوں کو جوابدہ نہیں؟ جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کسی رکن کو پارٹی کے خلاف فیصلے کے اظہار کا حق ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا دوسری کشتی میں چھلانگ لگا کر حکومت گرائی جاسکتی ہے؟ کیا دوسری کشتی میں جاتے جاتے پہلا جہاز ڈبویا جاسکتا ہے؟ زیادہ تر جمہوری حکومتیں چند ووٹوں کی برتری سے قائم ہوتی ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چھلانگیں لگتی رہیں تو معمول کی قانون سازی بھی نہیں ہوسکتی جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارٹی ڈسپلن کی پابندی کس کس حد تک ہے۔ 
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں بات نہ سنی جا رہی ہو تو مستعفی ہوا جا سکتا ہے ور مستعفی ہوکر رکن اسمبلی دوبارہ عوام میں جا سکتا ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ٹکٹ لیتے وقت امیدواروں کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے، پنڈورا باکس کھل گیا تو میوزیکل چیئر ہی چلتی رہے گی۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ صرف 63اے کی تلوار کا نہیں پورا سسٹم ناکام ہونے کا ہے جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سب نے اپنی مرضی کی تو سیاسی جماعت ادارہ نہیں ہجوم بن جائے گی، انفرادی شخصیات کو طاقتور بنانے سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔ 
اٹارنی جنرل نے دلائل دئیے کہ ہارس ٹریڈنگ روکنے کے سوال پر نہیں جاﺅں گا، معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑنا چاہیے جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ پارٹی لیڈر کو بادشاہ سلامت بنانا چاہتے ہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی کو بادشاہ نہیں تو لوٹا بھی نہیں بنانا چاہتے ؟ جس پر جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ آئین میں پارٹی سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنایا ہے، پارٹی کی مجموعی رائے انفرادی رائے سے بالاتر ہوتی ہے، سیاسی نظام کے استحکام کیلئے اجتماعی رائے ضروری ہوتی ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کیلئے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا۔ 
اٹارنی جنرل نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے کہ ایک تشریح تو یہ ہے انحراف کرنے والے کا ووٹ شمار نہ ہو جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ کیا ڈی سیٹ ہونے تک ووٹ شمار ہو سکتا ہے، 18 ویں ترمیم میں ووٹ شمار نہ کرنے کا کہیں ذکر نہیں۔ جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دئیے کہ کسی کو ووٹ ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا فلور کراسنگ کی اجازت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مغرب کے بعض ممالک میں فلور کراسنگ کی اجازت ہے، ہر معاشرے کے اپنے ناسور ہوتے ہیں، مغرب میں کرسمس سے پہلے قیمتیں کم اور یہاں رمضان سے پہلے مہنگائی ہو جاتی ہے، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا سیاسی جماعتوں کے اندر بحث ہوتی ہے؟ تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس سے زیادہ بحث کیا ہو گی کہ سندھ ہاو¿س میں بیٹھ کر پارٹی پر تنقید ہورہی ہے۔ 
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ مغرب میں لوگ پارٹی کے اندر غصے کا اظہار کرتے ہیں، جتنا مرضی غصہ ہو پارٹی کیساتھ کھڑے رہنا چاہیے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ضمیر کی آواز نہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں نے عدم اعتماد کیا اور حکومت بدل گئی، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بلوچستان میں دونوں گروپ باپ پارٹی کے دعویدار تھے، سب سے زیادہ باضمیر تو مستعفی ہونے والا ہوتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ووٹ ڈال کر شمار نہ کیا جانا توہین آمیز ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام دیا گیا ہے، اصل سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے۔ 
اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ پر اسمبلی آنے والا پارٹی ڈسپلن کا پابند ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آرٹیکل 63اے کی روح کو نظر انداز نہیں کر سکتے، عدالت کا کام خالی جگہ پر کرنا نہیں، ایسے معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہیں، عدالت نے آرٹیکل 55 کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ 
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر رکن ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لے تو نظام کیسے چلے گا؟ جس پر جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دئیے کہ آرٹیکل 63 فور کے تحت ممبر شپ ختم ہونا نااہلی ہے، آرٹیکل 63  فور بہت واضح ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اصل سوال ہی آرٹیکل 63 فور واضح نہ ہونے کا ہے، خلاف آئین انحراف کرنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی، جو آئین میں نہیں لکھا اسے زبردستی نہیں پڑھا جاسکتا، آرٹیکل 62 ون ایف کہتا ہے رکن اسمبلی کو ایماندار اور امین ہونا چاہیے۔ 
عدالت نے کیس کی سماعت کل دوپہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کرنے کا حکم دیا تو پیپلز پارٹی کے وکیل نے کہا کہ کل قومی اسمبلی کا   اجلاس بھی ہے جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ اسمبلی اجلاس سے اس ریفرنس کا کیا تعلق ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اسمبلی اجلاس سے اس ریفرنس کا کوئی تعلق نہیں ہے، ہم دو یا تین دنوں میں اس کیس پر سماعت مکمل نہیں کر پائیں گے، کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سماعت کل دوپہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی۔