تہران/تل ابیب : اسرائیلی میڈیا نے ایک سنسنی خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے ملکی قیادت کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور نئے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس ممکنہ فیصلے کو خطے میں جاری شدید کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات اور آبنائے ہرمز کی حساس صورتحال کے پیشِ نظر تہران کو "زیادہ حقیقت پسندانہ" سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیا ہے۔ اس نئی حکمتِ عملی میں واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ رابطے شامل ہو سکتے ہیں تاکہ ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ایرانی اقتدار کے ایوانوں میں اس وقت دو واضح دھڑے بن چکے ہیں۔ جو کسی بھی قسم کی نرمی یا مذاکرات کے خلاف ہے۔ سفارتی دھڑا: جو معاشی استحکام اور جنگ سے بچنے کے لیے بات چیت کا حامی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کا یہ حالیہ بیان مذاکرات کے حامی گروہ کی پوزیشن کو مستحکم کرے گا۔اگرچہ اسرائیلی میڈیا اس پیش رفت کو بڑی اہمیت دے رہا ہے، تاہم ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ خبر درست ثابت ہوتی ہے، تو یہ تہران کی دہائیوں پر محیط خارجہ پالیسی میں ایک تاریخی یوٹرن ثابت ہو سکتا ہے۔