کراچی : سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے سامنے واقعے میں زندہ بچ جانے والے شہری عبداللہ نے اپنے ہوش ربا مشاہدات بیان کر دیے۔ جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہو کر عبداللہ نے آگ لگنے کے بعد کی صورتحال اور انتظامیہ کی غفلت کا پردہ چاک کر دیا۔
عبداللہ نے کمیشن کو بتایا کہ وہ شاپنگ کے لیے گل پلازہ گئے تھے اور واقعے کے وقت میزنائن فلور (Mezzanine Floor) پر موجود تھے۔ ان کے بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ محض پانچ منٹ کے اندر پوری عمارت میں اتنا گہرا دھواں بھر گیا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ عبداللہ کے مطابق وہاں ان سمیت پانچ افراد موجود تھے، لیکن ہنگامی صورتحال میں کوئی بھی ایسا راستہ یا شخص موجود نہیں تھا جو ان کی رہنمائی کرتا یا باہر نکلنے میں مدد دیتا۔
شہری نے بتایا کہ انہوں نے زندگی بچانے کے لیے انتہائی خطرناک راستہ اختیار کیا۔ہم میزنائن فلور سے نیچے کھڑے ایک ٹرک پر کود کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ جیسے ہی میں باہر نکلا، دھوئیں کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہوگیا۔
عبداللہ نے مزید بتایا کہ بیہوشی کی حالت میں وہاں موجود لوگ انہیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کر گئے جہاں انہیں طبی امداد دی گئی۔ واضح رہے کہ عبداللہ ان خوش نصیب چھ افراد میں شامل ہیں جو اس ہولناک آتشزدگی میں زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
جوڈیشل کمیشن نے متاثرہ شہری کا بیان قلمبند کر کے واقعے کے مختلف پہلوؤں، خصوصاً عمارت میں حفاظتی انتظامات کی کمی پر اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔