گلگت: گلگت بلتستان میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بڑی تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 2 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں، جبکہ 10 سے 12 افراد لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق سیلاب سے پورے خطے میں شدید جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ 500 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، جبکہ 12 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 27 پل، 22 گاڑیاں، درجنوں دکانیں اور مویشی خانے بھی سیلابی ریلوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ ہزاروں فٹ عمارتی لکڑی پانی میں بہہ گئی ہے، جب کہ سب سے زیادہ نقصان ضلع دیامر میں ریکارڈ کیا گیا۔
12 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جبکہ 300 سے زائد مسافروں اور سیاحوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو کیا گیا۔ پاک فوج اور جی بی اسکاؤٹس نے ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔
ترجمان کے مطابق اب بھی لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے، تاہم لینڈ سلائیڈنگ اور پانی کے تیز بہاؤ کے باعث ریسکیو آپریشن میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پانی اور بجلی کی بحالی کے لیے بھی کام جاری ہے۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ متاثرین کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔