Get Alerts

"فیصلہ ہماری شرائط پر ہوگا":ایران کا امریکی جنگ بندی تجاویز مسترد کرنے کا اعلان

تہران : ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجاویز کو "نا مناسب" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کا کوئی بھی معاہدہ صرف اور صرف ایران کی پیش کردہ شرائط کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔
ایرانی پریس ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے امریکی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے لیکن انہیں موجودہ حالات میں غیر مناسب پایا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا  ہم صدر ٹرمپ کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین کریں۔ ہمیں امریکی سفارتکاری کا نہایت تباہ کن تجربہ ہوا ہے، جس پر اب کوئی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران کی دفاعی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک درج ذیل مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے ۔ ایرانی عہدیداروں کے قتل اور ایران سمیت خطے کے دیگر مزاحمتی گروپوں پر حملے فوری روکے جائیں۔ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا درست تعین کیا جائے اور ان کی ادائیگی کی ٹھوس ضمانت دی جائے۔ ایران کی اپنی آبی حدود اور آبنائے ہرمز پر مکمل خود مختاری کو تسلیم کیا جائے۔مستقبل میں جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ضمانتیں فراہم کی جائیں۔اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران دو مرتبہ اس وقت ایران پر حملہ کیا گیا جب تہران جوہری مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کے عمل کے عین درمیان میں تھا۔ انہوں نے اسے "سفارتکاری سے غداری" قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الوقت ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایرانی حکام نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے یہ پیغام بھی پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی ریاست کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور جب تک ان کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، جنگ بندی کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔

ٹیگز: