Get Alerts

 "کچھ لو اور کچھ دو" کے معنی اگر ڈیل، سودابازی اور این آر او نہیں تو کیا ہیں؟: عرفان صدیقی

 

اسلام آباد:مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی کا  کہنا ہے کہ "کچھ لو اور کچھ دو" کے معنی اگر ڈیل، سودابازی اور این آر او نہیں تو کیا ہیں؟۔ واضح رہے کہ علیمہ خان، جو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ ہیں، نے  حکومت کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئیں، ہمارے ساتھ بات کریں، کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر تیار ہیں۔

سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عمران خان سے کسی کا کوئی رابطہ ہوا ہے نہ ہی کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی بس خواب دیکھ رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی کال پر کوئی باہر نہیں نکلے گا۔ پی ٹی آئی انتشار اور مذاکرات کے مداروں میں چکر کھا رہی ہے۔

منگل کو   نیو نیوز  کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اس سوال پر کہ  علیمہ خان نے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر بات آگے بڑھانے کی پیشکش کی ہے، سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت تو شاید خان صاحب کو بہت کچھ دینے کی پوزیشن میں ہے، عمران خان کیا دے سکتے ہیں؟ وہ کچھ دینے کی پوزیشن میں ہے ہی نہیں۔مذاکرات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلے یہ طے کر لیں بات کرنی ہے؟ کس نے کرنی ہے؟ اور کس سے کرنی ہے؟ ان میں ابھی یہ فیصلہ بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی تحریک عدم اعتماد لائے، ہمارے تو نہیں پی ٹی آئی کے مزید لوگ ضرور کم ہو جائیں گے۔ ہماری صفوں میں کوئی علوی یا قاسم سوری نہیں۔ اسمبلی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بہادر لیڈر کی طرح بتائیں کون یزید اور فرعون ہے؟ ان کا اپنا دور اقتدار اس کی عملی تصویر ضرور رہا۔ پہلے میر جعفر میر صادق کہتے تھے، باجوہ سے ملے تو کہاکہ آپ کو نہیں کہا۔ ان کی جرات کے مناظر سب نے دیکھے ہیں اور سب کو یاد ہیں۔ یہ رویے پی ٹی آئی دور میں ضرور تھے۔

 انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہوٹل کے دروازے ٹوٹے، والد کے سامنے جیل سے مریم کو گرفتار کیا گیا۔ یہ یزیدیت دی تھی، فرعونیت تھی یا کیا تھا؟ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ 300 تنصیبات، جی ایچ کیو پر حملے، شہدا کے مزاروں کی بے حرمتی کس کے جرائم ہیں؟ 28 مئی کی طرح 9 مئی اور 10 مئی بھی تاریخ میں درج ہو چکے ہیں۔ ہم نے کسی پر ہیروئن نہیں ڈالی، لیکن اگر بازار میں آپ نے گھڑیاں بیچی ہیں، سینکڑوں کنال زمین لی ہے تو جواب تو دینا ہوگا۔ نواز شریف پر تو صرف یہ الزام تھا کہ بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما نے کہا کہ جتنی عمران خان کی دو سال میں جیل میں ملاقاتیں ہوئی ہیں، اڈیالہ جیل میں 20 سال میں کسی کی نہیں ہوئیں۔

 سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ مودی کی گفتگو ہارے ہوئے شخص کی گفتگو ہے۔ وہ گولی چلائیں گے تو جواب میں گولا کھائیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔

ٹیگز: