اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی۔ اپنے بیان میں وزیر داخلہ نے کشمیری شہداء، حریت رہنماؤں، اسیران اور مظلوم خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو بھارتی ظلم و ستم کے سامنے سر نہیں جھکائے۔
محسن نقوی نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 وہ تاریخ کا سیاہ دن ہے جب بھارت نے غیر قانونی طور پر جموں و کشمیر پر قبضہ کر کے تاریخ کا سیاہ ترین باب رقم کیا۔ "بھارتی افواج نے 1947 سے اب تک مقبوضہ کشمیر کو ظلم، جبر اور ریاستی دہشتگردی کا عقوبت خانہ بنا دیا ہے، جہاں پیلٹ گنز، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور خواتین کی تذلیل بھارتی مظالم کی لرزہ خیز حقیقت ہیں۔"
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نوجوان آزادی کی قیمت اپنی جانوں سے ادا کر چکے ہیں، لیکن ان کا جذبہ حریت آج بھی برقرار ہے۔ "میڈیا بلیک آؤٹ، انٹرنیٹ کی بندش اور فوجی محاصرے نے کشمیر کو ایک قید خانے میں بدل دیا ہے، جہاں ہر آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے مظالم پر بارہا آواز اٹھا چکی ہیں، لیکن افسوس کہ دنیا کی خاموشی ابھی تک برقرار ہے۔"
محسن نقوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر عالمی سطح پر خاموشی بے حسی کی عکاسی کرتی ہے اور انصاف کے عالمی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ "اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی واضح ہیں کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت نے ان قراردادوں کو پامال کر کے نہ صرف عالمی قانون بلکہ انسانیت کی حرمت کو بھی مجروح کیا ہے۔"
وفاقی وزیر داخلہ نے قائداعظم محمد علی جناح کے معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "قائداعظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ہماری قومی تشخص کی علامت ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ممکن ہے۔"
محسن نقوی نے آخر میں عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر عالمی فورم پر جاری رکھے گا۔ "ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔"