اسلام آباد : پہلگام فالز فلیگ واقعے کے بعد بھارت ایک بار پھر جنگی جنون کا شکار ہو گیا ہے۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر الزامات لگاتے ہوئے مودی سرکار نے روایتی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں موجود دیہات کو خالی کروانا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے جموں و کشمیر کے سامبا، کٹھوا اور اکھنور سیکٹرز میں کئی دیہات خالی کروا لیے ہیں۔ اس سے پہلے اٹاری سیکٹر میں بھی گرودواروں کے ذریعے اعلانات کروا کر مقامی لوگوں کو فصلوں کی کٹائی کے بعد علاقہ چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
بھارتی میڈیا میں پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ اپنے عوام کو زمینی حقائق سے دور رکھنے کے لیے بھارت نے سینکڑوں پاکستانی چینلز کو بند کر دیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی یہ جارحانہ اور غیر منطقی حکمت عملی نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے بلکہ خود بھارتی عوام بھی اس انتہا پسندی سے نالاں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پہلگام جیسے واقعات کو جواز بنا کر سرکاری سطح پر جنگی فضا پیدا کرنا دراصل بھارت کی داخلی ناکامیوں، سیاسی دباؤ اور عالمی سطح پر تنہائی کو چھپانے کی کوشش ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بھارت نے یہ روش نہ بدلی تو خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔