2022ء ”تو اسے پیمانہ امروز و فردا میں نہ ناپ“

2022ء ”تو اسے پیمانہ امروز و فردا میں نہ ناپ“

اقتصادیات فرد اور قوم دونوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہے اس میں سیاست دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ اقتصادی و معاشی حالات کی سیاست کا رخ متعین کرتے ہیں اس لحاظ سے رخصت ہونے والے سال کے بارے میں جائزہ لیا جائے تو دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز نے 2022 میں Hit کیا ہے وہ مہنگائی ہے جس کا براہ راست تعلق اقتصادی شعبے سے ہے۔ دنیا بھر میں زندہ رہنے کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اس کا اندازہ پاکستانیوں سے زیادہ شاید کسی اور کو نہیں ہو سکتا کیونکہ اب تو جسم و جان رشتہ قائم رکھنا یا غریبی کا بھرم رکھنا بھی ممکن نہیں رہا۔ 
لیکن اس سے پہلے سوال یہ ہے کہ ہمارے اعمال نیک و بد کا ماہ و سال سے کیا تعلق ہے یہ کتنا منطقی ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں کا ملبہ کسی مخصوص وقت دن مہینے یا سال پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جائیں۔ آنے اور جانے والے سارے سال ایک جیسے ہوتے ہیں فرق صرف انسانی رویوں کا ہوتا سے اگر وہ نہیں بدلا تو سمجھو کچھ نہیں بدلا۔ ماہ و سال یا روز و شب تو محض گنتی پوری کرنے اور حساب کتاب کیلئے قدرت کا دیا ہوا محض ایک پٹوار خانہ ہے جس میں ہر طرح کے داخلی اور خارج کا اندراج کرنا ایک معمول کی کارروائی ہے۔ علامہ اقبال ؒنے کہا تھا
برتر از اندیشہئ سود و زیاں ہے زندگی
 ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی 
تو اسے پیمانہئ امروز و فردا میں نہ ناپ 
جاوداں پیہم دوراں ہردم جواں ہے زندگی
اس سال کے دوران جس طرح کے واقعات ہوئے ہمیں انہیں دیکھا جائے تو یہ اپنی نوعیت کا واحد سال ہے جس نے دنیا کو مشکلوں میں ڈال دیا۔ خراب عالمی معیشت ناقص ماحولیات اور جنگ اور عالمی بدامنی اس سال کی نمایاں خصوصیات رہیں۔ امریکہ اور برطانیہ جیسی عالمی طاقتیں سر پیٹ رہی ہیں کہ ان کے ہاں افراط زر کی شرح بالترتیب 9 فیصد اور 11 فیصد تک بڑھ چکی ہے جسے وہ اپنے ملکوں کیلئے کو خطرناک سمجھ رہے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح 29 فیصد تک جا چکی ہے۔ اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جئے جاتے ہیں ہماری 60 فیصد سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے گر چکی ہے جہاں صرف دو وقت روئی کیلئے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اکثریت کی ذہنی کیفیت زندگی کو سزا سمجھتی ہے کہ جیون ہے اگر زہر تو پینا ہی پڑے گا
یہاں یہ کالم ختم ہو جانا چاہیے لیکن بر سبیل تذکرہ ہم کچھ دیگر عالمی واقعات کا ذکر کرنا چاہیں گے 2018 میں دنیا کو کرونا وائرس کی وبا میں گرفتار کرنے والا وائرس اس سال اپنے نئے Variant اومی کرون کی شکل میں سامنے آیا اور چائنا جہاں سے کرونا شروع ہوا تھا وہاں ایک بار پھر او می کرون نے تباہی کا راستہ جاری رکھا اور دنیا بھر میں نئے وائرس کا خوف غالب رہا۔
اس سال کی سب سے بڑی افسوسناک بات روس کا یوکرائن پر حملہ تھا اس حملے کا اتنا نقصان شاید یوکرائن کو نہ ہوا ہو گا جتنا پاکستان نے محسوس کیا کیونکہ اس کی وجہ سے پٹرول کی عالمی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اس واقعہ سے جہاں سری لنکا دیوالیہ ہو گیا اور پاکستان دیوالیہ ہونے کے کنارے پر ہے وہاں سعودی عرب اور قطر جیسے پٹرول اور گیس سے بھر پور ممالک کی آمدنیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے قطر اس وقت فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کا امیر ترین ملک ہے۔ 6 ڈالر فی یونٹ قیمت والی گیس کی قیمتیں 40 ڈالر سے اوپر جاچکی ہیں۔
اس سال کی بڑی خبر ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا انتقال تھا جو 96 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ ملکہ نے 70 سال حکومت کر کے تاریخ کا اٹوٹ ریکارڈ قائم کیا یہ ملکہ خود تو 26 سال کی عمر میں تخت نشیں ہوئی مگر ان کا بیٹا 64 سال کی عمر میں ان کا جانشیں بنا 
اس سال کی ایک اور اہم خبریہ ہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل (Abation) کو نا جائزاور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے صوبوں یعنی ریاستوں کی اس پر قانون سازی کی ہدایت کی ہے یہ یہ امریکی سماجی اخلاقی اور معاشرتی حلقوں میں بہت بڑی پیش رفت ہے یہ فیصلہ ایک ایسے ملک اور معاشرے میں ہوا سے جہاں اب جوڑوں کی اکثریت بغیر رشتہئ ازدواج بچے پیدا کر رہے ہیں اور اس کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس سے کرہ ارض پر موجود انسانوں جانوروں اور نباتات کو سنگین خطرات ہیں فصلوں کی تباہی سے غذائی قلت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ایک طرف گلیشیئر پگھل رہے ہیں برف باری بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح اس سال یورپ میں گزشتہ 500 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی خشک سالی دیکھنے میں آئی اور چائنہ میں زیر زمین پانی کی سطح اور گہری ہوگئی ہے جس سے وہاں بجلی پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کا عمل متاثر ہوا۔
اس ضمن میں سب سے بڑی خبر پاکستان میں آنے والا شدید سیلاب سے جس سے ہماری معیشت کو 40 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے اس کے پیچھے بھی موسمیاتی تبد یلوں کے سے شرائط پر اثرات کا دخل ہے لیکن افسوس ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل کی اپیل کے باوجود عالمی برادری نے پاکستان کی خاطر خواہ مدد نہیں کی اور آئی ایم ایف نے پاکستان کی سیلاب تباہ حال معیشت کی بحالی کیلئے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت شرائط پر قرضہ دیا جس سے غربت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا۔ 
اس سال کی خاص بات یہ ہے کے عالمی آبادی نے 8 ارب کا ہندسہ عبور کر لیا ہے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ آ ج سے سوا دو سو سال پہلے 1803ء میں دنیا کی آبادی جب ایک ارب ہوئی تو شور مچ گیا تھا کہ اب کیا ہو گا لیکن پچھلے دو صدی کی ایجادات اور انسانی ترقی کی رفتار آبادی میں اضافے کی رفتار سے زیادہ ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر دنیا ترقی اور بہتری کی طرف رواں دواں رہی مگر آبادی میں دو صدی میں 8 گنا اضافہ ساری ترقی کو ملیا میٹ کرنے کے در پے ہے دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا۔
 مغرب کے خوشحال ممالک میں ایک نئی سوچ ابھر رہی ہے کہ اگر غریب ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں رعایت نہ دی گئی اور یہ معیشتیں تباہ ہو گئی تو ان کا کاروبار بھی رک جائے گا جب ان سے قرضے یا ان کی مصنوعات خرید نے والے ممالک کی مارکیٹیں بند ہو جائیں گی۔ امیر ممالک کی سوچ یہ ہے کہ اپنے کاروبار بچانے کیلئے کم از کم اپنے گاہکوں کو مرنے سے بچایا جائے تاکہ ان کی دکانداریاں چلتی رہیں۔ اسی لئے ہمیں فکر نہیں کرنی چاہئے۔ آئی ایم ایف ہماری مجبوری ضرور ہے مگر ہم بھی اس کی مجبوری ہیں۔ آئیے سب مل کر دعا کریں کہ نیا سال گزشتہ سال سے اچھا ہوگا۔