Get Alerts

اسرائیل کا غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے پر مبینہ سائبر حملہ، فلوٹیلا کا مشن جاری رکھنے کا اعلان

اسرائیل کا غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے پر مبینہ سائبر حملہ، فلوٹیلا کا مشن جاری رکھنے کا اعلان

غزہ :غزہ کے لیے امداد لے کر روانہ ہونے والے بین الاقوامی بحری قافلے "گلوبل سمود فلوٹیلا" کے منتظمین نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی جنگی جہازوں نے ان کی کشتیوں کو نشانہ بنایا اور کمیونیکیشن نظام کو مفلوج کرنے کے لیے سائبر حملہ کیا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ تمام تر خطرات کے باوجود اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امدادی قافلے کی دو کشتیوں، Alma اور Sirius، کو اس وقت اسرائیلی بحری جہازوں نے گھیرے میں لے لیا جب وہ غزہ کے قریب سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔قافلے میں شامل برازیلی کارکن تھییاگو ایویلا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیلی مداخلت کے دوران کشتیوں کا نیویگیشن اور کمیونیکیشن نظام اچانک بند ہو گیا، جسے منتظمین نے ’سائبر حملہ‘ قرار دیا ہے۔

یہ بحری قافلہ 40 سے زائد سول کشتیوں پر مشتمل ہے، جن میں اقوامِ متحدہ کے نمائندے، پارلیمنٹیرینز، وکلاء، انسانی حقوق کے کارکن اور ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔ قافلہ خوراک اور طبی امداد غزہ پہنچانے کے لیے روانہ ہوا ہے، اور اس وقت غزہ کے ساحل سے تقریباً 120 ناٹیکل میل دور موجود ہے۔منتظمین کے مطابق اگر رکاوٹ نہ ڈالی گئی تو قافلہ جمعرات کی صبح غزہ کی ساحلی حدود میں داخل ہو جائے گا۔

فلوٹیلا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں ان کی کشتیوں پر ڈرونز سے حملے کیے گئے، جن میں اسٹن گرنیڈز اور خارش پیدا کرنے والا پاؤڈر استعمال ہوا۔ اگرچہ ان حملوں سے کشتیوں کو نقصان پہنچا، لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اقوامِ متحدہ میں فلسطینی حقوق کی نمائندہ فرانچیسکا البانیزے نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے قافلے کو روکا تو یہ بین الاقوامی اور بحری قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو غزہ کے ساحلی پانیوں پر کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔

ادھر اٹلی اور اسپین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشتیوں پر سوار افراد کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائے۔ دونوں ممالک نے قافلے کو تجویز دی کہ امداد کی ترسیل کیتھولک چرچ کے ذریعے کی جائے، تاہم منتظمین نے یہ تجویز مسترد کر دی ہے۔

ترکی کی جانب سے قافلے کی فضائی نگرانی کے لیے ڈرونز تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ اٹلی اور اسپین کے بحری جہاز بھی علاقے میں موجود ہیں۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ وہ قافلے کو صرف اس وقت تک تحفظ فراہم کریں گے جب تک وہ غزہ کے ساحل سے 150 ناٹیکل میل کے اندر رہے گا۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے حالیہ واقعات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اسرائیل کا دیرینہ مؤقف ہے کہ وہ غزہ کی بحری ناکہ بندی کو قانونی تصور کرتا ہے اور کشتیوں کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرے گا، کیونکہ غزہ میں اس وقت اس کا براہِ راست تنازع حماس کے ساتھ جاری ہے۔

یاد رہے کہ 2010 میں بھی غزہ کے لیے امداد لے جانے والی ایک فلوٹیلا پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 9 کارکن جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

ٹیگز: