کراچی :سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن میں میونسپل کمشنر کے ایم سی نے سوالنامے کا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے۔ جمع کروائے گئے جواب میں کے ایم سی نے سانحے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے سارا ملبہ دیگر بلدیاتی، صوبائی اور ضلعی اداروں پر منتقل کر دیا ہے۔
میونسپل کمشنر نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ کے ایم سی کی ذمہ داری صرف مرکزی شارع تک محدود ہے، جبکہ گل پلازہ کے اطراف کی سڑکوں سے تجاوزات کا خاتمہ ٹی ایم سی (TMC) صدر کی ذمہ داری ہے۔
کمشنر نے مزید واضح کیا کہ فائر آڈٹ کی ذمہ داری سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ کی ہے، جبکہ سیفٹی آڈٹ 'ایمرجنسی ریسکیو سروس ایکٹ 2023' کے تحت ریسکیو 1122 کے سپرد ہے۔
سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت فائر فائٹنگ کے ایم سی کے پاس تھی، تاہم 2023 کے ایکٹ کے تحت یہ ذمہ داری ریسکیو 1122 کو منتقل ہو چکی ہے، جس کی منظوری 11 دسمبر 2025 کو کونسل اجلاس میں دی گئی۔جواب میں کہا گیا ہے کہ کے ایم سی نے 2024 میں رضاکارانہ طور پر 200 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کر کے رپورٹ کمشنر کو پیش کی تھی، لیکن ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کیے گئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو متحرک ہونا چاہیے تھا۔
کے ایم سی نے آتشزدگی کے وقت اپنی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع ملتے ہی کرین، ایکسکویٹر، جیک ہیمر اور دیگر ہیوی مشینری فوری طور پر تعینات کر دی گئی تھی۔ فائر بریگیڈ کے ساتھ سٹی وارڈنز اور میونسپل سروسز کے اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں شریک تھے۔ ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کا دباؤ گریج لائن تعمیراتی منصوبے کی وجہ سے تھا، جس کا کے ایم سی سے تعلق نہیں۔
میونسپل کمشنر نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ گل پلازہ میں ہونے والی تباہی اور جانی و مالی نقصان میں کے ایم سی کی کوئی انتظامی غفلت شامل نہیں ہے۔