Get Alerts

پہلگام واقعہ ،بھارت نے صرف 10 منٹ میں تفتیش مکمل کر کے سرحد پار سے حملے کا الزام عائد کر دیا:  ڈی جی آئی ایس پی آر  

 پہلگام واقعہ ،بھارت نے صرف 10 منٹ میں تفتیش مکمل کر کے سرحد پار سے حملے کا الزام عائد کر دیا:  ڈی جی آئی ایس پی آر  

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر  اہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ترجمان پاک فوج عالمی  میڈیا کو بھارتی جارحیت  سے متعلق بریفننگ  دے رہے ہیں. ان کے ساتھ پاکستان ایئر فورس اور نیوی کے سینئر افسران  بھی شریک ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام حملے سے متعلق بھارت کی جانب سے سرحد پار سے دہشتگردوں کے آنے کا دعویٰ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام کی جغرافیائی حیثیت اور پاکستان سے اس کا زمینی فاصلہ تقریباً 230 کلومیٹر ہے، جو اس بات کو ناقابلِ فہم بناتا ہے کہ کوئی گروپ بغیر کسی مقامی سہولت اور مدد کے اتنی دور سے آ کر حملہ کرے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے عائد کردہ الزامات ماضی کی طرح اس بار بھی بغیر ثبوت کے ہیں اور یہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پہلگام واقعے سے متعلق بھارتی موقف کو تضادات سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے صرف 10 منٹ میں واقعے کی تفتیش مکمل کر کے سرحد پار سے حملے کا الزام عائد کر دیا، جو کہ ایک ناقابلِ یقین دعویٰ ہے۔

انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران ایف آئی آر کی سلائیڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی پولیس جائے وقوعہ پر مبینہ حملے کے صرف 10 منٹ بعد پہنچی، ابتدائی تفتیش کی اور فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا، حالانکہ ایک طرف کا راستہ ہی 30 منٹ کا ہے، تو یہ عمل انسانی طور پر ممکن ہی نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے نشاندہی کی کہ ایف آئی آر میں نہ صرف واقعے کو سرحد پار سے جوڑ دیا گیا ہے بلکہ فائرنگ کو "اندھادھند" قرار دے کر بغیر ثبوت الزامات کی بنیاد پر بیانیہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر بھارت کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا نے فوری طور پر الزام عائد کرنا شروع کر دیا کہ اس حملے میں مبینہ طور پر پاکستانی عناصر ملوث ہیں، تاہم یہ الزامات نہ صرف غیر منطقی ہیں بلکہ ان کا مقصد بھارتی فوجی اقدامات کو جواز فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹی وی چینلز اور سرکاری بیانات نے جلد بازی میں پاکستان مخالف بیانیہ اپنایا، اور یہی بیانیہ آج مقبوضہ کشمیر میں جاری فوجی کارروائیوں کا جواز بنا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بے گناہ خواتین اور بچوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس بریفنگ میں مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی گفتگو پر مبنی ویڈیوز بھی دکھائیں، جن میں مقامی لوگ پہلگام واقعے پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک شہری نے کہا: "یہاں بھارتی فوج کی موجودگی سب سے زیادہ ہے، کوئی پوسٹ شیئر کرے تو رات میں اٹھا لیا جاتا ہے، پھر یہ حملہ کیسے ہوا؟"
ایک اور کشمیری شہری نے سوال اٹھایا کہ "اگر یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا تو کیا یہ سیکیورٹی کی ناکامی نہیں؟".ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ تمام سوالات بھارتی بیانیے کی سچائی کو چیلنج کر رہے ہیں، اور دنیا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام حملے کے حوالے سے بھارت کے پاس کوئی ثبوت نہیں، اس کے باوجود پاکستان پر بلاجواز الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اپنے شہریوں کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے، اسی لیے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر حملے کا راستہ اپنایا گیا۔

پریس بریفنگ میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے انکشاف کیا کہ بھارت نے ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے اور پاکستان کے ڈیجیٹل میڈیا پر بھارت میں مکمل پابندی لگا دی تاکہ بھارتی عوام صرف سرکاری بیانیہ سنیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے الزامات جھوٹے اور ثبوت سے عاری ہیں، اور یہ پہلا موقع نہیں کہ اس قسم کی کارروائی کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔

انہوں نے 2000 کے چتی سنگ پورا واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) کے ایس گل کا بیان سنوایا، جس میں وہ واضح طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ یہ حملہ بھارتی فوج کے ذریعے منصوبہ بندی سے کیا گیا تاکہ بی جے پی حکومت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر سکے۔

اسی طرح 2019 کے پلوامہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس وقت کے مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیا پال ملک کا بیان بھی سنایا، جس میں وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے کو انتخابات میں سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر پاکستان مخالف فوجی کارروائیاں بند کرے اور بین الاقوامی برادری کو اس طرزعمل کا نوٹس لینا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک بار پھر بھارت کے پاکستان مخالف عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں روزانہ دہشتگردی ہو رہی ہے، اور اس کے پیچھے بھارتی ریاستی سرپرستی موجود ہے۔

پریس بریفنگ میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے ایسے بیانات کے کلپس پیش کیے جن میں وہ کھلے عام پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف بیانیہ چلا رہا ہے بلکہ عملی طور پر دہشتگردی کی سرپرستی بھی کر رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بھارتی بحریہ کے افسر کلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان بھی دکھایا، جس میں اس نے واضح طور پر پاکستان میں تخریبی کارروائیوں اور دہشتگردی کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا تھا۔

مزید برآں، بریفنگ کے دوران ایک ہتھیار ڈالنے والے شدت پسند گروہ کے سرغنہ کا بیان بھی چلایا گیا، جس میں اس نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی اور بلوچ نوجوانوں کی ہلاکتوں کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے ان غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات کا نوٹس لے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم پریس بریفنگ میں بھارت پر دہشتگردی کی سرپرستی اور پاکستان میں حالیہ حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا ایک منظم نیٹ ورک موجود ہے جو دہشتگردوں کی تربیت، مالی معاونت اور اسلحہ فراہم کرتا ہے، اور یہ تمام سرگرمیاں بھارتی سرزمین پر موجود کیمپوں سے انجام دی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات لگائے اور ان ہی من گھڑت بیانات کی بنیاد پر 6 اور 7 مئی کی رات پاکستان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن میں 33 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 خواتین، 5 بچے اور 7 عام شہری شامل تھے، جبکہ 62 سویلین اور 14 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ان حملوں کے بعد بھارتی میڈیا نے اس پر "جشن" منایا، جو افسوسناک اور غیر انسانی عمل ہے۔
"آپ دو سال کے بچوں کو شہید کر کے اسے قومی کامیابی کہتے ہیں؟"۔انہوں نے شہید بچوں، مریدکے میں تباہ شدہ مسجد اور جلے ہوئے قرآن پاک کے نسخوں کی تصاویر دکھائیں اور سوال اٹھایا کہ کون سا مذہب یا عالمی قانون اس بربریت کی اجازت دیتا ہے؟۔انہوں نے مزید بتایا کہ 6 اور 7 مئی کو پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 رافیل، ایک مگ-29 اور ایک ایس یو-30 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔
پاکستان کی جوابی کارروائی صرف بھارتی فوجی تنصیبات تک محدود رہی، شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ بھارت کی ان کارروائیوں کا مقصد پاکستان کے انسداد دہشتگردی آپریشنز سے توجہ ہٹانا تھا تاکہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد عناصر دوبارہ متحرک ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ پیغام کے مطابق جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کے حملے میں 9 فوجی جوان شہید ہوئے۔

آخر میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہاجب ہم جواب دیں گے تو دنیا کو بھارتی میڈیا کی ضرورت نہیں پڑے گی، آوازیں خود ہر طرف سنائی دیں گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے غیر ملکی صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان میں بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کی آڈیو ثبوت پیش کر دیے۔

انہوں نے صحافیوں کو ایک کال سنوائی، جس میں ایک دہشتگرد اور بھارتی فوج کے افسر میجر سندیپ کے درمیان پاکستان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کی بات چیت ہو رہی تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا،یہ آپ نے خود سن لیا، اب سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ پاکستان میں دہشتگردی کون کروا رہا ہے۔"

انہوں نے بھارت کو چیلنج دیا کہ اگر پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی بھی ثبوت ہے تو عالمی برادری کے سامنے لایا جائے۔
"نہ پہلگام واقعے کا کوئی ثبوت ہے، نہ ہی بھارت کے اس دعوے کا کوئی ثبوت ہے کہ پاکستان گزشتہ 48 گھنٹوں سے بھارتی سرزمین پر حملے کر رہا ہے۔ یہ تمام الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔"

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی حکومت کو فلموں اور ڈراموں کی دنیا سے باہر نکلنا ہوگا اور حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔
"یہ وقت ہے کہ بھارت اپنی غیر سنجیدگی ترک کرے اور عالمی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔"

ٹیگز: