اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی وفود کی آمد اور اہم مذاکرات کے پیشِ نظر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سکیورٹی پلان کی حتمی منظوری دی گئی، جس میں سول و عسکری حکام سمیت مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق اسلام آباد کو سکیورٹی کے لحاظ سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج، رینجرز، ایف سی اور پولیس کے 17 ہزار سے زائد اہلکار وفود کی حفاظت پر مامور کر دیے گئے ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر کے غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ ریڈ زون اور ملحقہ علاقوں کی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک،ایران جنگ بندی کے بعد ان اہم مذاکرات کا اسلام آباد میں انعقاد پاکستان کے لیے ایک بڑا عالمی اعزاز ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر ملکی مہمانوں کی سکیورٹی اور مہمان نوازی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ یہ پاکستان کے وقار کا معاملہ ہے، اس لیے ہر ممکن اقدام یقینی بنایا جائے۔